انڈونیشیا میں ملحدین اور لامذہب افراد کے خلاف کریک ڈاؤن
👁️ 161 بار دیکھا گیا
انڈونیشیا میں ملحدین اور لامذہب افراد کے خلاف کریک ڈاؤن
جکارتہ (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) انڈونیشیا میں سرکاری دستاویزات پر مذہب کی وضاحت قانونی طور پر ضروری ہے۔ مذہب میں یقین نہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ملحدین اور کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کے حقوق کے تحفظ کی ایک غیر معمولی قانونی کوشش کو گزشتہ ماہ انڈونیشیا کی آئینی عدالت نے ناکام بنا دیا تھا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ایک شہری، حتیٰ کہ اقلیتوں کو بھی، سرکاری دستاویزات پر اپنے عقیدے کی وضاحت کرنی چاہیے، اور یہ کہ شادی مذہب کے مطابق ہونی چاہیے۔
انڈونیشیا، دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے اور سرکاری طور پر چھ مذاہب کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ ہیں اسلام، پروٹسٹنٹ ازم، کیتھولک ازم، بدھ مت، ہندو مت، اور کنفیوشس ازم۔ اگرچہ اقلیتی عقائد کے ماننے والوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن قانون کے تحت ملحد اور کسی مذہب کو نہیں ماننے والوں کو تسلیم بھی نہیں کیا جاتا۔
سال دو ہزار بارہ میں، ایک سرکاری ملازم الیگزینڈر عان کو فیس بک پر ملحدانہ مواد شیئر کرنے پر توہین مذہب کے جرم میں 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
انڈونیشیا کا ضابطہ فوجداری توہین مذہب اور الحاد کے پھیلاؤ کو قابل سزا قرار دیتا ہے، حالانکہ تکنیکی طور پر، یہ خود مذہبی عقیدے کی عدم موجودگی کو جرم قرار نہیں دیتا۔
تاہم، کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کا استدلال ہے کہ موجودہ قوانین کو مرضی کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے تاکہ انہیں قانون کے تحت مساوی تحفظ حاصل نہ ہو سکے۔
جنوری 2024 میں، آئینی عدالت نے ان اقلیتی مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو، جو سرکاری طور پر تسلیم شدہ چھ میں سے نہیں ہیں، کو اجازت دی کہ اپنے شناختی کارڈ پر “غیر متعین عقیدہ رکھنے والوں” کے طور پر اندراج کرائیں۔
سماجی کارکنوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس سے “کوئی مذہب نہیں” کے آپشن کو شامل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔
لیکن، یہ امید اس وقت ختم ہو گئی جب دو اگناسٹک (لاادری) کارکنوں، ریمنڈ کامل اور تیگوہ سوگیہارتو کی طرف سے دائر کردہ وہ درخواست اکتوبر میں آئینی عدالت میں مسترد ہو گئی جس میں انہوں نے اپیل کی تھی کہ کسی مذہب کو نہیں ماننے والوں کو سرکاری دستاویزات پر مذہب کو خالی چھوڑنے کا حق دیا جائے۔
عدالت نے لامذہب کی درخواست مستر کردی
آئینی عدالت کے جسٹس عارف ہدایت نے گزشتہ ماہ درخواست کے خلاف فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا کہ مذہبی عقیدہ “پینکاسیلا” کے تحت “ضرورت” ہے اور آئین کے ذریعہ لازمی ہے۔
پینکاسیلا انڈونیشیا کا بنیادی نظریہ ہے، جو ایک واحد، اعلیٰ ترین ذات میں یقین رکھتا ہے۔ جسٹس ہدایت، جو ایک سابق چیف جسٹس ہیں، نے دلیل دی کہ مذہبی اعتراف کی ضرورت ایک “متناسب پابندی” ہے اور یہ من مانی یا جابرانہ نہیں ہے۔
آئینی عدالت نے کامل اور سوگیہارتو کی طرف سے دائر کی گئی ایک اور درخواست کو بھی مسترد کر دیا جس میں دلیل دی گئی کہ شادی کے قانون کی ایک شق، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شادی صرف اسی صورت میں جائز ہے جب متعلقہ مذہب اور عقیدے کے قوانین کے مطابق کی جائے، تفریق پر مبنی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق جسٹس ہدایت نے اپنے فیصلے میں کہا، “انڈونیشیا کے شہریوں کے لیے کسی مذہب یا عقیدے پر عمل نہ کرنے کا انتخاب کرنے کے لیے دفعات کی عدم موجودگی، انفرادی مذہب یا عقیدے کے مطابق شادیوں کی توثیق کرنے کے حوالے سے “امتیازی سلوک نہیں کرتا”۔
بین الاقوامی آئینی معاملات کے بارے میں برلن میں واقع ہرٹی اسکول کے اسکالر ایگنیسیئس نگراہا نے لکھا، “عدالت نے بنیادی طور پر فیصلہ دیا ہے کہ غیر مذہبی ہونے کے لیے آزادی کی ‘کوئی گنجائش’ نہیں ہے۔”
لامذہب افراد کے حقوق بالعموم عدم توجہی کا شکار
کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کے خلاف آئینی عدالت کے فیصلے پر بین الاقوامی توجہ بہت کم مبذول ہوئی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں اقلیتی عقائد کے حقوق حالیہ برسوں میں ایک گرما گرم تنازعہ بن گئے ہیں، خاص طور پر جب سے میانمار کی فوج نے 2016 میں مسلم اقلیتی روہنگیا آبادی کی نسل کشی کی کوشش شروع کی۔
امریکی حکومت اور جرمن پارلیمنٹ نے خاص طور پر کمیونسٹ ویتنام اور لاؤس کی حکومتوں کو مذہبی اقلیتوں پر جبر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
لیکن ایگناسٹکس اور ملحدین کا کہنا ہے کہ انہیں بہت کم بین الاقوامی ہمدردی ملتی ہے۔
پوپ فرانسس نے گزشتہ ستمبر میں انڈونیشیا کے اپنے دورے کے دوران لامذہب افراد کے لیے آواز نہیں اٹھائی تھی۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرنے والے یورپی یونین (ای یو) کے ایک ترجمان نے عدالتی فیصلے پر کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا۔
دریں اثنا ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کے ایک محقق آندریاس ہارسونو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ آئینی عدالت کے فیصلے سے حیران نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں 1998 میں صدر سہارتو کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسلامی بنیاد پرستی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور “عدالت کے نو جج بھی اسلامی بنیاد پرستی سے محفوظ نہیں ہیں۔”
آندریاس ہارسونو کا تاہم خیال ہے کہ مقصد اب بھی قابل حصول ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
خاران میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، بی ایل اے کے 9 دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
ہنگو: ٹل میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس آپریشن، ٹی ٹی پی کے 4 دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
شام : سابق نظام سے وابستہ جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں، 2 افراد گرفتار، دوسری سیل بھی پکڑی گئی
06/September/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے حیس کو حوثیوں کے قبضہ سے آزاد کردیا، مکمل کنٹرول کا اعلان
06/September/2026 👁️ 95 بار دیکھا گیا
مستونگ میں قومی شاہراہ سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد
06/September/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
ہرات : نوجوان کو مبینہ تشدد کے بعد طالبان نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا
06/September/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11809 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9103 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7394 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5092 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C