30/September/2026

ایران میں مشہد احتجاج کیس کے دو افراد کو پھانسی، چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا الزام

👁️ 72 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں مشہد احتجاج کیس کے دو افراد کو پھانسی، چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا الزام

ایران میں مشہد احتجاج کیس کے دو افراد کو پھانسی، چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا الزام

تہران (ڈیلی اردو) ایران میں جنوری 2026 کے حکومت مخالف احتجاج سے متعلق ایک مقدمے میں دو افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق دونوں کو مشہد میں احتجاج کے دوران چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ پھانسی کی سزا بدھ کی صبح عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور سپریم کورٹ سے فیصلے کی توثیق کے بعد نافذ کی گئی۔

ایرانی عدلیہ کے میڈیا سینٹر کے مطابق مقدمے میں دونوں افراد پر سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت میں کردار ادا کرنے کا الزام ثابت ہونے کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سرکاری ذرائع نے ان کے خلاف مقدمے کی مکمل تفصیلات، شواہد اور عدالتی سماعتوں کی تمام جزئیات عوامی سطح پر جاری نہیں کیں۔

یہ پھانسیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب ایران میں جنوری کے احتجاج سے متعلق متعدد مقدمات میں سزائے موت پر عمل درآمد جاری ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 18 مارچ سے اگست کے اختتام تک ایرانی حکام نے احتجاج سے متعلق کم از کم 29 افراد کی پھانسیوں کا اعلان کیا، جبکہ تنظیم نے متعدد مقدمات میں مبینہ طور پر غیر واضح الزامات، محدود عدالتی شفافیت اور وکلا تک رسائی سے متعلق خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کہا ہے کہ جنوری 2026 کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں کم از کم 26 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے اور مزید افراد کو سزائے موت کا سامنا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ بعض مقدمات میں تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے مبینہ اعترافات اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائی سے متعلق سنگین خدشات موجود ہیں۔ ایرانی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور احتجاج سے متعلق افراد کے خلاف کارروائیوں کو قومی سلامتی اور سکیورٹی سے متعلق مقدمات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

رائٹرز اور دیگر عالمی ذرائع کے مطابق ایران میں جنوری کے ملک گیر احتجاج کے بعد سزائے موت کے مقدمات میں اضافہ ہوا ہے۔ جولائی میں بھی ایرانی حکام نے اصفہان میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں دو افراد کو پھانسی دی تھی، جس سے احتجاج سے متعلق سزائے موت پر عمل درآمد کا سلسلہ مزید نمایاں ہوا۔

تازہ کارروائی کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ایران میں احتجاجی مقدمات، سزائے موت اور عدالتی عمل کی شفافیت پر بحث ایک بار پھر سامنے آگئی ہے، جبکہ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ سزائیں عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق دی جارہی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C