02/November/2026

ایران کے سپریم لیڈر نے امریکا سے مذاکرات کے لیے حکومت کو اختیارات دے دیے، صدر پزشکیان کا انکشاف

👁️ 58 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے سپریم لیڈر نے امریکا سے مذاکرات کے لیے حکومت کو اختیارات دے دیے، صدر پزشکیان کا انکشاف

ایران کے سپریم لیڈر نے امریکا سے مذاکرات کے لیے حکومت کو اختیارات دے دیے، صدر پزشکیان کا انکشاف

تہران(ڈیلی اردو) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکومت کو کچھ اختیارات دے دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران تنازعات کا حل جنگ کے بجائے بات چیت کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے، تاہم فوجی دباؤ کے ذریعے تہران کو جھکانا ممکن نہیں ہوگا۔

پیر کے روز ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس سلسلے میں سپریم لیڈر نے اسے بعض اختیارات تفویض کیے ہیں۔ انہوں نے ان اختیارات کی نوعیت، دائرہ کار یا ممکنہ فیصلوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے قطر کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، تاہم دوحہ میں ایرانی حکام اور قطری ثالثوں کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت کسی حتمی معاہدے یا نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوئی ہے۔ مذاکرات کے دوران کسی ممکنہ معاہدے کا مسودہ بھی زیرِ گردش ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران کی جانب سے پیش کردہ سات نکاتی منصوبہ مذاکرات کی بنیاد ہے، جسے مختصر کرکے دو روز میں نافذ کیے جانے کے قابل بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے معاملات شامل ہیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز کو معمول کی بحری آمدورفت کے لیے کھولنے سے پہلے امریکی ناکہ بندی ختم کرنا اور تہران کے مطالبات تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ایران منجمد اثاثوں کی رہائی اور خطے کے مختلف محاذوں پر جنگ بندی کا بھی مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو دیگر شرائط پر پیش رفت کے بعد زیرِ بحث لانے پر اصرار کر رہا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی واضح کر چکے ہیں کہ قطر کے ذریعے ہونے والی مشاورت تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچی۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔

یوں سپریم لیڈر کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کے لیے اختیارات دینے کا اعلان سفارتی عمل میں اہم پیش رفت ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ناکہ بندی، پابندیوں، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے مستقبل سمیت کئی بنیادی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں اور کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C