10/August/2025

باجوڑ امن مذاکرات ناکام، دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ

👁️ 455 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
باجوڑ امن مذاکرات ناکام، دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ

باجوڑ امن مذاکرات ناکام، دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ

پشاور (ڈیلی اردو) خیبرپختونخوا میں امن و امان کے حوالے سے مشاورتی جرگوں اور حکومتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم قبائلی ضلع باجوڑ کی صورتحال پر ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

 

 باجوڑ میں امن و امان سے متعلق جرگہ ممبران اور دوسرے فریق کے درمیان 10 روز سے جاری مذاکرات ناکام ہوگئے، کیونکہ سرکاری حکام کے مطابق دوسرے فریق کے مطالبات ناقابلِ قبول تھے۔ 

 

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ باجوڑ کے 20 فیصد علاقے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت موجود ہے، جن میں 60 فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے، اور یہ گروہ باجوڑ کو مہمند اور ملاکنڈ میں اپنے نیٹ ورک کی تشکیل کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

 

 حکام نے واضح کیا کہ دہشت گرد آبادی کے درمیان چھپ کر کارروائیاں کر رہے ہیں اور ان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں قبائل کو تین نکات پیش کیے گئے: افغان نژاد دہشت گردوں کو نکالا جائے، اگر یہ ممکن نہیں تو ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کرایا جائے تاکہ سیکیورٹی فورسز کارروائی کر سکیں، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کارروائی کے دوران کولیٹرل ڈیمیج سے حتی الامکان بچا جائے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سے بات چیت کا کوئی امکان نہیں جب تک وہ مکمل طور پر ریاست کے سامنے ہتھیار نہ ڈال دیں۔

 

اسی تناظر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں آج امن و امان سے متعلق چوتھا اور آخری علاقائی مشاورتی جرگہ منعقد ہوا، جس میں ضلع کرم اپر، سنٹرل اور لوئر کے قبائلی عمائدین، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، اراکین اسمبلی، وزیر اعلیٰ کے مشیر بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف، سینیٹر نور الحق قادری، چیف سیکرٹری، آئی جی پی، متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام نے شرکت کی۔ 

 

جرگہ عمائدین نے وزیراعلیٰ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اور امن کے قیام کے لیے سب متحد ہیں کیونکہ امن ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ عمائدین نے کرم میں امن بحال کرنے، علاقے کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج، ہیلی کاپٹر سروس کی فراہمی 

اور عوامی مسائل کے حل پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

 

 انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں طبقات امن کے لیے یک زبان ہیں اور حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں گے۔ مزید یہ کہ کرم کے دیرپا امن کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور علاقائی مشران پر مشتمل بااختیار جرگہ تشکیل دے کر افغانستان سے مذاکرات کیے جائیں، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تجارتی راستے کھولے جائیں۔
 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C