31/October/2025

باجوڑ میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن، ٹی ٹی پی کا نائب سربراہ قاری امجد 4 ساتھیوں سمیت ہلاک

👁️ 588 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
باجوڑ میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن، ٹی ٹی پی کا نائب سربراہ قاری امجد 4 ساتھیوں سمیت ہلاک

باجوڑ میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن، ٹی ٹی پی کا نائب سربراہ قاری امجد 4 ساتھیوں سمیت ہلاک

راولپنڈی (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ قبائلی ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر قاری امجد عرف مزاحم سمیت چار شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

 

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغانستان سے شدت پسندوں کا ایک گروہ پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ فائرنگ کے تبادلے میں قاری امجد سمیت چار جنگجو مارے گئے۔ قاری امجد کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کے نائب اور رہبری شوریٰ کے سربراہ تھے جبکہ حکومت نے ان کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔

 

کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی نے بھی قاری امجد اور ایک ساتھی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ 

 

قاری امجد کا شمار تنظیم کے بااثر کمانڈروں میں ہوتا تھا اور امریکہ نے دسمبر 2022 میں انہیں عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق انہیں بیرون ملک، قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا میں کارروائیوں کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

 

ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر سے تھا جہاں وہ ابتدائی تعلیم کے بعد جندول کے ایک مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ سال 2007-08 میں مقامی سطح پر شدت پسندی کے عروج کے دوران وہ طالبان میں شامل ہوئے اور مختلف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے باعث وہ 2010 میں افغانستان منتقل ہوئے اور وقفے وقفے سے پاکستان آنے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں۔

 

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کی قیادت پاکستان میں شدت پسندوں کی دراندازی کی کوششیں کروا رہی ہے تاکہ تنظیم کی ’اندرونی موجودگی‘ کا تاثر دیا جا سکے اور باجوڑ و مہمند میں ان کے گرتے حوصلوں کو سہارا مل سکے۔ پاکستانی ادارے ٹی ٹی پی کو ’فتنہ الخوارج‘ قرار دیتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ رواں ماہ پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب جانی و مالی نقصان کے دعوے سامنے آئے تھے جو بعدازاں قطر میں جنگ بندی معاہدے کے بعد رُکیں۔ تاہم استنبول میں ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور بے نتیجہ رہا، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے سخت بیانات بھی سامنے آئے۔

 

پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق ترکی کی درخواست پر مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ افغان نمائندے سہیل شاہین نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں وفود تاحال استنبول میں موجود ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C