24/September/2026

بلوچستان میں خواتین پر مشتمل نئی عسکری یونٹ، بی ایل ایف کی پہلی کارروائی کا دعویٰ

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں خواتین پر مشتمل نئی عسکری یونٹ، بی ایل ایف کی پہلی کارروائی کا دعویٰ

بلوچستان میں خواتین پر مشتمل نئی عسکری یونٹ، بی ایل ایف کی پہلی کارروائی کا دعویٰ

کوئٹہ(ڈیلی اردو) شورش زدہ صوبہ بلوچوستان میں بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے خواتین پر مشتمل ایک نئی مسلح یونٹ قائم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے ’’کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن‘‘ (KAAD) کا نام دیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق نئی یونٹ کو مسلح کارروائیوں کے لیے منظم کیا گیا ہے اور اس کے قیام کے موقع پر خواتین جنگجوؤں کی تربیت کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ کے مطابق نئی یونٹ نے 22 ستمبر کو کیچ کے علاقے جسک، تربت کے قریب چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے راستے پر پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا۔ تنظیم نے کارروائی میں متعدد اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

بی ایل ایف کے میڈیا ونگ نے کارروائی کے ایک روز بعد خواتین کی عسکری تربیت سے متعلق ویڈیو بھی جاری کی، جس میں خواتین کو مختلف ہتھیاروں کے استعمال اور جنگی مشقوں میں حصہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو اور تنظیم کے بیان کے مطابق خواتین کو نئی یونٹ کے تحت منظم عسکری سرگرمیوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔

بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی جانب سے خواتین کو عسکری سرگرمیوں میں شامل کیے جانے کا معاملہ اس سے قبل بھی سامنے آتا رہا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے بھی خواتین کو بعض حملوں میں استعمال کیا گیا ہے، جبکہ بی ایل ایف سے منسوب بعض کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے دعوے بھی سامنے آچکے ہیں۔

نئی یونٹ کے قیام اور اس کی مبینہ پہلی کارروائی سے متعلق دستیاب معلومات کا بڑا حصہ خود بی ایل ایف کے بیانات اور اس کی جانب سے جاری کردہ مواد پر مبنی ہے۔ اس لیے کارروائی کی تفصیلات، جانی نقصان اور نئی یونٹ کی عملی صلاحیت سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C