11/August/2025

بلوچستان میں نو ہفتوں میں دوسرا اسسٹنٹ کمشنر بیٹے سمیت اغوا، گاڑی نذرآتش

👁️ 260 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں نو ہفتوں میں دوسرا اسسٹنٹ کمشنر بیٹے سمیت اغوا، گاڑی نذرآتش

بلوچستان میں نو ہفتوں میں دوسرا اسسٹنٹ کمشنر بیٹے سمیت اغوا، گاڑی نذرآتش

کوئٹہ (بیورو رپورٹ) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے ضلع زیارت کی تحصیل زیارت میں بلوچ عسکریت پسندوں نے اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ان کے بیٹے سمیت اغوا کر لیا۔ یہ واقعہ صوبے میں نو ہفتوں کے دوران کسی اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کا دوسرا کیس ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر زیارت ذکا اللہ درانی کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر فیملی کے ساتھ ایک پکنک پوائنٹ پر گئے تھے کہ زیزری کے مقام پر مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر سوار افراد کو اتارا اور گاڑی کو آگ لگا دی۔ مسلح افراد نے گن مین، ڈرائیور اور دیگر افراد کو چھوڑ دیا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کو نامعلوم مقام پر لے گئے۔

 

انتظامیہ کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات اور مغویوں کی بازیابی کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں، تاہم تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

 

اس سے قبل 4 جون کو ایران سے ملحقہ ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں اسسٹنٹ کمشنر حنیف نورزئی کو بھی بلوچ عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی، اور وہ تاحال بازیاب نہیں ہو سکے۔

 

زیارت بلوچستان کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے جو کوئٹہ سے تقریباً 140 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہاں دنیا کے نایاب صنوبر کے قدیم جنگلات پائے جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر یہ ضلع پرامن سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم صوبے میں بدامنی کے بعد ضلع ہرنائی کے ملحقہ علاقے شورش سے متاثر ہوئے ہیں۔

 

بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنی علالت کے آخری ایام زیارت میں گزارے تھے، جہاں واقع قائد ریذیڈینسی کو 2013 میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے نذرآتش کر دیا تھا۔ جولائی 2022 میں بھی بلوچ عسکریت پسندوں نے زیارت سے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے ایک سینیئر اہلکار کو اغوا کے بعد گولی مارکر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C