25/September/2025

بنوں، لکی مروت، اورکزئی اور خیبر میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں

👁️ 272 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنوں، لکی مروت، اورکزئی اور خیبر میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں

بنوں، لکی مروت، اورکزئی اور خیبر میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں

پشاور (نماٙندگان ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جھڑپوں اور کارروائیوں کے دوران متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔

 

بنوں

 

بنوں کے علاقے ممندخیل، آیاز کلے میں گورنمنٹ گرلز اسکول کے قریب سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ فائرنگ اور دھماکوں کے باعث پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

 

جھڑپ کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صدر اسرائیل خان وزیر کے بھائی، ملک لائق خان شدید زخمی ہوئے اور انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سلیم عباس کلاچی بھی جھڑپ کی نگرانی کے لیے موجود تھے۔ مسلح افراد قریبی گاؤں میں روپوش ہو گئے اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

 

دوسری جانب، بنوں کے علاقے بکاخیل منڈی میں جرگے کے دوران مقامی مشران نے خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا اور آئندہ منگل کو گرینڈ جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا۔

 

لکی مروت

 

لکی مروت کے گاوں خیروخیل پہاڑ خیل قبرستان گروانڈ کے قریب پولیس اور امن لشکر نے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور سرچ آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد ہلاک ہوا۔ ہلاک دہشتگرد کی شناخت ہارون شاہ ولد فرید اللہ شاہ، سکنہ شاہ حسن خیل، پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان کے طور پر کی گئی۔ دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

 

اورکزئی

 

اورکزئی کے گاؤں درہ حسن زئی میں کالعدم تحریک طالبان کے مقامی کمانڈروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ طالبان کمانڈرز سید نواز اور قاری واجد 25 سے 30 دہشتگردوں کے ہمراہ مقامی لوگوں سے عشر کا مطالبہ لے کر آئے۔ گاؤں کے میر شاہ نے اس مطالبے سے انکار کیا جس پر طالبان نے گھیراؤ کیا۔ 

 

مقامی عوام نے ان کے خلاف مزاحمت کی اور شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔

 

خیبر

 

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے فائرنگ حملے کا جواب دیا، جس کے دوران ایک شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ ہلاک دہشتگرد کی لاش برآمد کر لی گئی۔

 

عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں اور شہری آبادی کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تشدد اور جھڑپیں اب ہر جگہ پھیل چکی ہیں اور کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C