13/May/2025

جرمنی میں انتہا پسند تنظیم ‘رائش بُرگر’ پر پابندی عائد، 4 سرکردہ رہنما گرفتار

👁️ 118 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جرمنی میں انتہا پسند تنظیم ‘رائش بُرگر’ پر پابندی عائد، 4 سرکردہ رہنما گرفتار

جرمنی میں انتہا پسند تنظیم ‘رائش بُرگر’ پر پابندی عائد، 4 سرکردہ رہنما گرفتار

برلن (ڈیلی اردو/اے پی/ڈی پی اے) جرمن حکومت نے منگل کے روز دائیں بازو کی انتہا پسند تحریک ’رائش بُرگر‘ پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ گروپ، جو خود کو ’کنگڈم آف جرمنی‘ یا ’جرمن بادشاہت‘ کہتا ہے، جرمنی کے سب سے منظم انتہا پسند دھڑوں میں شمار ہوتا ہے۔ حکام کے مطابق تنظیم کے چار مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ملک بھر میں اس کے اراکین کے گھروں اور جائیدادوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ الیکسزانڈر ڈوبرینڈٹ نے تنظیم پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ وفاقی جمہوریہ جرمنی کی قانونی اور آئینی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا اور ایک متوازی ریاستی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔ اس تحریک کے مبینہ طور پر چھ ہزار سے زائد پیروکار ہیں جو مختلف ریاستوں میں سرگرم ہیں۔

گرفتاریاں اور الزامات

جرمن پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق گرفتار افراد میں تنظیم کا بانی پیٹر فٹزک بھی شامل ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 37 سے 59 سال کے درمیان ہیں اور انہیں بدھ کے روز فیڈرل کورٹ آف جسٹس، کارلسروہے میں پیش کیا جائے گا۔ ان پر ریاست مخالف سرگرمیوں، غیرقانونی بینکاری، اور جعلی انشورنس کمپنیوں کے ذریعے معاشی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

چھاپے اور مقامات

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق منگل کی صبح سے چھ ریاستوں — باڈن ورٹمبرگ، لوئر سیکسنی، نارتھ رائن ویسٹ فیلیا، رائن لینڈ پلاٹینیٹ، سکسنی، اور تھیورنگیا — میں پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں جن میں سینکڑوں اہلکار شریک ہیں۔

تنظیم کا نظریہ اور پس منظر

’رائش بُرگر‘ تحریک کا دعویٰ ہے کہ موجودہ وفاقی جمہوریہ نے 1871ء میں قائم ہونے والے ’جرمن رائش‘ کی جگہ غیر قانونی طور پر لے لی، جو نازی دور تک قائم رہا۔ یہ گروپ پارلیمان، عدالتوں، ٹیکس نظام اور سوشل سکیورٹی جیسے ریاستی اداروں کو تسلیم نہیں کرتا اور خود کو ان قوانین سے مبرا سمجھتا ہے۔

تحریک کے بانی پیٹر فٹزک نے 2012ء میں ’رائش سیٹیزن موومنٹ‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ وزیر داخلہ ڈوبرینڈٹ کے مطابق یہ گروپ سامیت مخالف سازشوں اور نفرت انگیز نظریات کو فروغ دیتا ہے، جس کی اجازت جرمن ریاست میں نہیں دی جا سکتی۔

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو ہر حال میں قائم رکھے گی اور انتہا پسندی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C