حماس کی غزہ پر حکمرانی کا خاتمہ کریں گے، اسرائیلی وزیر اعظم
👁️ 96 بار دیکھا گیا
حماس کی غزہ پر حکمرانی کا خاتمہ کریں گے، اسرائیلی وزیر اعظم
تل ابیب (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ ڈی پی اے) فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری بالواسطہ امن مذاکرات ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے ویسٹ بینک میں اسرائیلی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے غزہ پٹی میں فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی حکمرانی کو ختم کرنے کے اپنے ہدف کا اعادہ کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے گریجویٹس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ”کسی بھی لمحے شدید لڑائی میں واپسی کے لیے تیار ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ”ہمارے تمام یرغمالی، بغیر کسی استثنیٰ کے، گھر واپس آئیں گے۔ حماس غزہ پر حکومت نہیں کرے گی۔ غزہ کو غیر فوجی بنا دیا جائے گا، اور اس(حماس) کی جنگی قوت کو ختم کر دیا جائے گا۔‘‘ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ فتح ”مذاکرات‘‘ یا ”کسی اور طریقے سے‘‘ حاصل کی جا سکتی ہے۔
غزہ سیزفائر معاہدے کا دوسرا مرحلہ جنگ کے حتمی خاتمے اور بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کی طرف لے جانا چاہیے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس پر عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔ حماس غزہ میں مستقل جنگ بندی اور مکمل اسرائیلی انخلا چاہتی ہے۔ اسرائیل حماس کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے اپنے جنگی مقصد پر اصرار کر رہا ہے۔ غزہ پٹی میں اب بھی 60 سے زائد یرغمال بنائے گئے اسرائیلی موجود ہیں، جن میں سے نصف کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب زندہ نہیں ہیں۔
حماس کا اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی معطلی پر غور
اسی دوران حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات معطل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ حماس کے سینئر رہنما احمد مرداوی نےمیسیجنگ ایپ ٹیلیگرام پر لکھا کہ ان کا گروپ اس وقت تک جنگ بندی پر بات نہیں کرے گا، جب تک اسرائیل 600 کے قریب ان فلسطینی قیدیوں کو رہا نہیں کرتا، جنہیں گزشتہ ہفتے کے روز رہا کیا جانا تھا۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو حماس کے حلقوں سے معلوم ہوا کہ ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے اور یہ گروپ ثالثوں کے ساتھ رابطے کر رہا ہے۔ حماس نے ہفتے کے روز چھ اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ پٹی میں ریڈ کراس کے نمائندوں کے حوالے کیا تھا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ ان چھ یرغمالیوں کے بدلے اسرائیل 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے گا، جن میں سے 50 عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اسرائیل ان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر رہا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا، ”جب تک اگلے یرغمالیوں کی ذلت آمیز تقاریب کے انعقاد کے بغیر رہائی کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی،‘‘ فلسطینی قیدیوں کی رہائی رکی رہے گی۔
غزہ میں جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے جنوبی اسرائیل میں ایک دہشت گردانہ حملے کے بعد اسرائیلی جوابی کارروائی سے شروع ہوئی تھی۔ حماس کے حملے میں 1,200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حماس کے عسکریت پسندوں نے 250 سے زائد افراد کو یرغمال بھی بنا لیا تھا۔ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جوابی کارروائی میں اب تک وہاں 48,300 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دونوں جنگی فریقوں کے مابین 19 جنوری کو شروع ہونے والے کثیر المرحلہ جنگ بندی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے کے دوران چھ ہفتوں میں 1,904 فلسطینی قیدیوں کے بدلے مجموعی طور پر 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو بتدریج رہا کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ کی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسرائیل کی طرف سے اس مقبوضہ فلسطینی علاقے میں فوجی کارروائیوں میں توسیع کے اعلان کے بعد ان آبادکاروں نے اس مقبوضہ علاقے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل نے اتوار کے روز کہا تھا کہ اس کے فوجی مقبوضہ مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں کئی ماہ تک موجود رہیں گے۔ وہاں رہنے والے دسیوں ہزار فلسطینی اسرائیلی فوجی آپریشن میں شدت کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں۔ گوٹیرش نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بتایا، ”میں اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور دیگر خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ الحاق کے مطالبات پر بھی سخت تشویش میں مبتلا ہوں۔‘‘
اسرائیلی فوج نے ایک ماہ قبل مغربی کنارے کے شمال میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑی چھاپہ مار کارروائی شروع کی تھی۔ اس کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں آہستہ آہستہ جنین، تلکرم اور توباس کے شہروں کے قریب متعدد پناہ گزین کیمپوں تک پھیل گئیں۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کو جنین میں ٹینکوں کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا، جہاں وہ اپنی کارروائیوں کو”توسیع‘‘ دے رہی ہے۔
2005ء میں دوسری فلسطینی انتفاضہ یا بغاوت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں اسرائیلی ٹینکوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہو چکا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
روس ایران کے ساتھ تعاون ختم نہیں کرے گا، لاوروف کا تہران میں اعلان
19/October/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
احمد آباد بم دھماکے کیس: بھارتی سپریم کورٹ نے محمد تنویر کی سزائے موت روکنے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دےدیا
19/October/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
بلوچستان: چاغی میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی
19/October/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: سرینگر گرینیڈ حملہ کیس میں پلوامہ کے دو نوجوان بری، تحقیقات میں خامیوں کی نشاندہی
19/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
امریکی حملے کی صورت میں عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، ایران کا انتباہ
19/October/2026 👁️ 93 بار دیکھا گیا
یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں درجنوں ہلاکتیں، باب المندب اور تعز میں شدید جھڑپیں
19/October/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26387 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15624 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11919 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9272 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7530 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5484 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C