21/October/2025

خضدار: زہری میں فوج کا کنٹرول، قوم پرست جماعتوں کی عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تحقیقات کا مطالبہ

👁️ 361 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خضدار: زہری میں فوج کا کنٹرول، قوم پرست جماعتوں کی عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تحقیقات کا مطالبہ

خضدار: زہری میں فوج کا کنٹرول، قوم پرست جماعتوں کی عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تحقیقات کا مطالبہ

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل زہری کے ہیڈکوارٹر زہری شہر میں معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شہر کو کاروباری اور دیگر سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ نیشنل ہائی وے سے زہری کا زمینی رابطہ بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

 

تین روز قبل کورکمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان نے زہری ٹاؤن کا دورہ کیا تھا اور مقامی عمائدین سے ملاقات کے ساتھ وہاں کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔

 

زہری کہاں واقع ہے؟

 

زہری ضلع خضدار کا دوسرا بڑا شہر ہے جو خضدار سے شمال کی سمت تقریباً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ شہر قلات اور خضدار کے درمیان کوئٹہ-کراچی نیشنل ہائی وے سے تقریباً 52 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

 

پس منظر

 

گزشتہ سال 8 جنوری کو پہلی مرتبہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جنگجو زہری شہر میں داخل ہوئے تھے تاہم اس وقت ان کی موجودگی چند گھنٹوں تک محدود رہی۔

 

رواں سال اگست میں دوبارہ عسکریت پسند گروہوں نے زہری اور اس کے نواحی علاقوں میں داخل ہو کر اپنی موجودگی ایک ماہ سے زائد برقرار رکھی۔

 

ستمبر کے وسط میں سکیورٹی فورسز نے زہری اور اس کے گردونواح میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ چار اکتوبر کو مقامی میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی کہ فورسز نے زہری ٹاؤن کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

 

اسی روز وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے ’’ریاست دشمن عناصر‘‘ کا خاتمہ کرتے ہوئے متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔

 

شہر پر کنٹرول کے بعد زہری کئی روز تک بند رہا جبکہ رابطہ سڑکیں بھی منقطع رہیں، جس سے خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔

 

کورکمانڈر کا دورہ

 

مقامی ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان نے جمعہ کے روز زہری کا دورہ کیا، جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی اور شہر کے عمائدین سے ملاقات کی۔

 

اگرچہ اس دورے کی تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم مقامی تاجر رہنماؤں کے مطابق اس کے بعد شہر میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئیں۔

 

انجمن تاجران زہری کے صدر علی محمد نے بتایا کہ گزشتہ تین چار روز سے زہری شہر میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک بازار کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ان کے مطابق خضدار اور نیشنل ہائی وے کی جانب سے رابطہ سڑک بھی کھول دی گئی ہے اور گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی دنوں میں خوراک اور ادویات کی قلت تھی لیکن اب صورتحال معمول پر آ چکی ہے۔

 

قوم پرست جماعتوں کے الزامات

 

بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

 

تاہم سرکاری سطح پر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی بلکہ مؤقف یہ دیا جا رہا ہے کہ کارروائی صرف عسکریت پسندوں کے خلاف کی گئی۔

 

ہیومن رائٹس کمیشن کی تشویش

 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے زہری کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائیوں کے دوران ایک شادی کی تقریب بھی حملے کی زد میں آئی، جس میں بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے کے کئی حصے نوگو ایریاز بن چکے ہیں اور لوگوں کی آمدورفت میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔

 

کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کی غیرجانبدار تحقیقات کروائی جائیں اور آزاد مبصرین اور صحافیوں کو علاقے تک رسائی دی جائے۔

 

حکومتی مؤقف

 

زہری میں مبینہ عام شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے وزیرِاعلیٰ بلوچستان، کمشنر مکران ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر خضدار سے موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C