خیبر: قبائلی عمائدین سے مذاکرات کے بعد طالبان کا وادیِ تیراہ سے انخلا پر اتفاق
👁️ 391 بار دیکھا گیا
خیبر: قبائلی عمائدین سے مذاکرات کے بعد طالبان کا وادیِ تیراہ سے انخلا پر اتفاق
واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کے دورافتادہ علاقے وادیِ تیراہ میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے مقامی عمائدین سے مذاکرات کے بعد بار قمبر خیل کے علاقے سے انخلا پر زبانی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔
ڈیلی اردو کے مطابق وادیِ تیراہ کے معتبر ذرائع نے بتایا کہ بار قمبر خیل قبیلے کے عمائدین کے ایک وفد نے اتوار کو ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈروں سے ملاقات کی اور انہیں 5 اگست 2024ء کے تحریری امن معاہدے کی یاد دہانی کرائی، جس میں عسکریت پسندوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنے گھروں کو سیکیورٹی فورسز پر حملوں یا کسی تخریبی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق عمائدین نے طالبان کمانڈروں کو واضح پیغام دیا کہ پاکستانی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث مقامی آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض مسلح گروہ اب بھی مقامی گھروں میں موجود ہیں اور باشندوں کو زبردستی اپنے مکانات چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
عمائدین نے کہا کہ حالیہ فائرنگ کے تبادلوں میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ کئی گھروں، حجروں اور مساجد کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ طالبان نے 5 اگست کے قرآن پاک پر کیے گئے امن معاہدے میں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کریں گے۔
قرآن پر کیے گئے امن معاہدے کی خلاف ورزی
قبیلہ بر قمبر خیل کی قومی شوریٰ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قرآن پاک پر کیے گئے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
شوریٰ کے مطابق عسکریت پسند رہائشی علاقوں سے سیکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔
شوریٰ نے مزید کہا کہ مسلح افراد گھروں، حجروں اور مساجد کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اور فورسز کی جوابی کارروائیوں میں شہری کولیٹرل ڈیمیج (غیر ارادی نقصان) کا شکار بن رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، شوریٰ نے موجودہ صورتحال پر غور اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے ایک گرینڈ جرگہ طلب کیا ہے، جس میں مختلف قبائل، سیاسی نمائندے اور سماجی رہنما شریک ہوں گے۔
قبائلی دباؤ کے بعد طالبان کا انخلا پر اتفاق
ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ مسلسل دباؤ اور مذاکرات کے نتیجے میں اتوار کے روز ٹی ٹی پی کمانڈروں نے اصولی طور پر اس بات سے اتفاق کیا کہ وہ بار قمبر خیل کے رہائشی گھروں میں قائم تمام ٹھکانے خالی کر دیں گے اور علاقے سے نکل جائیں گے۔
عمائدین نے سیکیورٹی حکام کو بھی قائل کر لیا ہے کہ علاقے میں گزشتہ کئی دنوں سے نافذ کرفیو ختم کیا جائے تاکہ مقامی لوگ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے حالیہ دنوں میں متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو گھروں سے نکلنے کا حکم دیا تھا کیونکہ فوجی کارروائیاں جاری تھیں۔ شدید فائرنگ کے باعث کئی خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔
کواڈ کاپٹر حملوں میں خاتون ہلاک، دو زخمی
مقامی ذرائع کے مطابق اتوار کے روز قمبر خیل اور ملک دین خیل کے علاقوں میں کم از کم تین ڈرون (کواڈ کاپٹر) حملے ہوئے، جن میں ایک خاتون ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایک گھر پر کواڈ کاپٹر کے حملے میں ایک خاتون موقع پر ہلاک ہو گئی، جب کہ یخ کمر کے علاقے میں ایک اور حملے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
زخمیوں کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔ بتایا گیا ہے کہ جس گھر پر حملہ ہوا، وہ اس وقت خالی تھا کیونکہ اس کے مکین پہلے ہی علاقے میں جاری لڑائی کے باعث محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے تھے۔
وادی تیراہ میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کی کاشت، 192 اہلکار ہلاک
دوسری جانب، پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے پیر کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا ہے کہ ’’سیاستدان باقی ہر معاملے پر سیاست کریں مگر دہشت گردی پر سیاست نہ کریں۔‘‘
فوجی ترجمان نے بتایا کہ اس وقت سرحدی علاقوں میں ڈرگ مافیا متحرک ہے اور پوست کی کاشت بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی رہنما، ڈرگ مافیا، افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سب اس منافع بخش مگر خطرناک دھندے میں شریک ہیں، اور ان کی ملی بھگت سے یہ مکروہ کاروبار جاری ہے۔
میجر جنرل احمد شریف کے مطابق خیبر کی تحصیل تیراہ میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ پر پوست کی کاشت ہو رہی ہے، اور وہاں مقامی لوگ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تیراہ میں 192 سیکیورٹی اہلکار مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ وادیِ تیراہ گزشتہ کئی برسوں سے سیکیورٹی فورسز اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جھڑپوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
یہ علاقہ پاک-افغان سرحد کے قریب واقع ہے اور عسکریت پسندوں کے لیے طویل عرصے تک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
مقامی عمائدین کی کوشش ہے کہ امن معاہدے کے تحت طالبان جنگجوؤں کو علاقے سے نکال کر معمولاتِ زندگی بحال کیے جائیں، تاہم زمینی حقائق کے مطابق علاقے میں فوجی آپریشن اور عسکریت پسندوں کی مزاحمت بدستور جاری ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 170 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 112 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 102 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 195 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4534 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3259 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2441 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C