08/November/2025

خیبر: وادیٔ تیراہ کی مساجد کے فوجی استعمال اور جانور باندھنے کے الزامات; اصل حقائق سامنے آگئے

👁️ 1170 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر: وادیٔ تیراہ کی مساجد کے فوجی استعمال اور جانور باندھنے کے الزامات; اصل حقائق سامنے آگئے

خیبر: وادیٔ تیراہ کی مساجد کے فوجی استعمال اور جانور باندھنے کے الزامات; اصل حقائق سامنے آگئے

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حالیہ بیان کے بعد سیاسی و مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت ردِعمل دیکھا جا رہا ہے۔ دو روز قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز قبائلی ضلع خیبر کی بعض مساجد میں اب بھی کتے باندھتی ہیں، اور اعتراض کرنے پر مقامی افراد کی تذلیل کی جاتی ہے۔

سہیل آفریدی کے بیان کو سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

اس معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر ڈیلی اردو کے چیف ایڈیٹر شبیر حسین طوری نے قبائلی صحافیوں اور اہم عمائدین سے رابطہ کیا ہے۔ مقامی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قبائلی ضلع خیبر کی دور افتادہ وادیٔ تیراہ کی جامع مسجد اور لر باغ کی مرکزی مسجد میں فوج کی جانب سے کتے، گدھے اور خچر باندھے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

 

مقامی افراد کے مطابق مسجد کی چھت پر جاسوسی اور مواصلاتی آلات کے ساتھ ڈش انٹینا بھی نصب ہے۔

 

مقامی افراد کے مطابق ان مساجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ فوجی اہلکار جوتوں سمیت مسجد کے اندر داخل ہوتے ہیں جس سے مذہبی حساسیت اور مقدس مقامات کے تقدس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 

پُرامن احتجاج اور ویڈیوز

 

 سال 2024 میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے اسی مسجد کے باہر پُرامن احتجاج کیا تھا۔ ویڈیوز میں پشتو زبان میں ایک قبائلی مشر  مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے  “یہ مرکزی مسجد ہمارا مشترکہ مذہبی مرکز ہے۔ یہاں کتے، گدھے اور خچر باندھنا ریاست کے لیے بھی شرمناک ہے اور ہمارے لیے بھی۔ ہم اس مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔”

 

ایک اور ویڈیو جو اردو زبان میں ریکارڈ کی گئی ہے، اس میں ایک شہری چیف جسٹس آف پاکستان سمیت بااثر شخصیات سے اپیل کرتا ہے کہ مسجد کو فوجی موجودگی سے پاک کر کے عام نمازیوں کے لیے کھولا جائے۔

 

تصدیق کے بعد مؤقف کی صورتحال

 

مقامی صحافیوں اور قبائلی عمائدین کی جانب سے ان مشاہدات کی تصدیق کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بیان درست اور حقائق پر مبنی ثابت ہوتا ہے، جس کے باعث صورتحال مزید حساس رخ اختیار کر چکی ہے۔

 

سیاسی اور مذہبی ردِعمل

 

مذہبی جماعتوں اور مختلف سیاسی حلقوں نے وزیراعلیٰ کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت قرار دیا تھا۔ تاہم زمینی حقائق سامنے آنے کے بعد بحث نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

 

عسکری مؤقف

 

اس حوالے سے تاحال سیکیورٹی اداروں کا کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں فوج قبائلی علاقوں میں مساجد کے عسکری استعمال کے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

 

قبائلی مطالبات

 

قبائلی عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ

مساجد کا فوجی استعمال ختم کیا جائے۔

 

باجماعت اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی بحال کی جائے۔

 

مقدس مقامات کے تقدس کو یقینی بنایا جائے

اہلکاروں کو جوتوں سمیت داخلے سے روکا جائے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C