خیبر پختونخوا میں ریاست مخالف قیادت قابل قبول نہیں، ترجمان پاکستان آرمی
👁️ 300 بار دیکھا گیا
خیبر پختونخوا میں ریاست مخالف قیادت قابل قبول نہیں، ترجمان پاکستان آرمی
پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) ترجمان پاکستانی فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ایسی قیادت لائی جائے جو ریاست کے خلاف ہو کیونکہ اسٹیبلشمنٹ بھی ریاست کا ایک ادارہ ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے بقول ’گمراہ سیاسی بیانیے‘ والے لوگوں کو اس صوبے میں قیادت سونپی جا رہی ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ ریاست کا ادارہ ہے۔ کیا (خیبر پختونخوا میں) ایسی قیادت لائی جا رہی ہے جو ریاست کے خلاف ہے؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ریاست پاکستان انتہائی مضبوط ہے۔ سیاسی رکاوٹوں کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔‘
ایک دوسرے سوال کے جواب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نو مئی کے واقعات کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے۔ یہ افواج پاکستان کا نہیں قوم کا مقدمہ ہے۔ کوئی بھی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک ان واقعات کو کرنے والے اور کروانے والے، ان کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جس ملک کے اندر آپ افواج، ان کے شہدا اور ان کے مقامات کو جلائیں، گھیراؤ کریں۔۔۔ تو اس پر نظام انصاف کے لیے سوالیہ نشان پیدا ہوجاتا ہے۔‘
’پاکستان کے عوام نو مئی کے مقدمات کے سب سے بڑے ضامن ہیں۔ ریاست اس کی ضامن ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’نو مئی میں ملوث لوگ اپنے کیفر کردار تک پہنچ رہے ہیں کیونکہ ہم نے قانون کو مضبوط کرنا ہے۔۔۔ کسی کو اجازت نہیں کہ لیگل پراسس سے بچ سکے۔‘
ترجمان پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جھوٹ اور ابہام پر مبنی بیانیے کے لیے سوشل سوشل میڈیا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے میکسیکو اور امریکہ کے درمیان سرحد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر حفاظت کی ذمہ داری دونوں ملکوں پر عائد ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرحد سے چرس اور دیگر سامان سمگل کیا جاتا ہے اور جب بھی اس پر ہاتھ ڈالا جائے تو اسے سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ ’2911 کلو میٹر کی سرحد پر فوج کی پوسٹوں میں کم از کم فاصلہ 15، 20 کلو میٹر کا ہے۔ کیا آپ کے پاس اتنی فوج اور ایف سی ہے کہ ساری سرحد کو کوور کریں؟‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’یہ دنیا کا واحد بارڈر ہے جہاں سے دہشتگردوں، سمگلروں اور سہولت کاروں کو پار کرایا جاتا ہے۔ دنیا میں یہ کہاں ہوتا ہے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس تمام تر وسائل ہونے کے باوجود وہاں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ ہے۔ ’مگر وہاں کوئی نہیں کہتا کہ سمگلنگ کے پیچھے وردی ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جھوٹ اور منفی سیاست کا نقصان خیبر پختونخوا کو ہو رہا ہے۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کی بڑھتی کارروائیوں کی ایک وجہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے مگر ’کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ اپنی ذات اور مفاد کے لیے پاکستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے جان و مال کا سودا کرے۔‘
کور کمانڈر ہاؤس پشاور سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ فوج صوبے میں آئین و قانون کے تحت سکیورٹی ذمہ داری نبھا رہی ہے جس کی بنیادی ذمہ داری صوبائی و مقامی انتظامیہ کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی پارٹی یا شخص یہ سمجھتا ہے اس کی سیاست ریاست سے بڑی ہے تو پھر ہمیں یہ قبول نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان یہ امید کرتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے سیاستدان ’بجائے منفی سیاست، الزام تراشی اور خوارجی کریمینل مافیا کی سہولت کاری کے، آپ اپنی بنیادی ذمہ داری پر توجہ دیں گے۔۔۔ امید کرتے ہیں صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کی سلامتی کے لیے افغانستان سے سکیورٹی کی بھیک مانگنے کی بجائے اس صوبے کے ذمہ داران ہوتے ہوئے آپ خود اس کی حفاظت کریں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افواج پاکستان واضح کرنا چاہتی ہے خوارجی دہشتگرد اور ان کے سہولت کاری چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی عہدے پر ہو، اس پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔‘
’جو شخص یا گروہ کسی مجبوری یا فائدے کی وجہ سے خوارجیوں کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ اس کے پاس تین راستے ہیں: اول کہ وہ خود ان خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کرے یا پھر دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کے خلاف مل جائے۔۔۔ ورنہ سہولت کار ریاست کے بھرپور ایکشن کے لیے تیار ہو جائیں۔‘
دریں اثنا پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ شدت پسندوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی اور اس کا مطالبہ کرنے والے عناصر قوم کو کنفیوز کر رہے ہیں۔
پشاور میں پاکستانی فوج کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا کے نئے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان کے طالبان کے ساتھ روابط ہیں اور وہ ان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’آپریشن نہ کریں بات چیت کریں، یہ کون کہہ رہا ہے؟ وہ شخص جو کہہ رہا ہے کہ ایسی صوبائی حکومت برداشت نہیں جو آپریشن کے خلاف کھڑی نہ ہو۔ یہ سب کے لیے واضح ہے کہ وہ کون سی سیاسی شخصیت ہے جو دہشتگردوں سے بات چیت کرنے کا کہتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت وہ ریاست کے ذمہ دار تھے۔ آج وہ ریاست کا حصہ نہیں پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ کہہ کر ’کنفیوز کیا جاتا ہے کہ جنھوں نے آپ کے بچوں کو مارا، ان سے بات چیت کر لو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دہشتگرد یہ کہتے ہیں کہ ہماری بچیوں کے وہ حقوق نہیں جو اسلام نے دیے ہیں، ان سے بات چیت کرنے کا کہا جاتا ہے۔۔۔ کون یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی کی گارنٹی کابل دے گا؟ یہ سب کے لیے واضح ہے۔ اس سوچ اور مجرمانہ بیانیہ کی قیمت قوم ادا کر رہی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس نے بات چیت کی بھی لیکن آپ نے اس بات چیت کا حال دیکھ لیا؟۔۔۔ کیا خوارجی نور ولی محسود سے بات چیت کریں؟‘
ترجمان پاکستانی فوج نے سوال کیا کہ ’کیا آپ ان سے بات چیت کر بھی سکتے ہیں؟‘
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں ’بدقسمتی سے‘ دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کو سپیس دی گئی جس کا عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نقصان ہوا۔
جمعے کو اپنی پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ان عوامل کو جاننا ضروری ہے جن کی وجہ سے دہشتگردی اب بھی موجود ہے۔‘
انھوں نے اس کی پانچ وجوہات بیان کیں:
1۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا
2۔ دہشتگردی کے معاملے پر سیاست کرنا اور قوم کو سیاست میں الجھانا
3۔ انڈیا کا افغانستان کو بیس کے طور پر استعمال کرنا
4۔ افغانستان میں دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں اور ہتھیاروں کی موجودگی
5۔ دہشتگردی کے پیچپھے ایک ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے جسے سیاسی پشت پناہی حاصل ہے
پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ افغان شہری پاکستان میں شدت پسندی میں ملوث ہیں۔
کور کمانڈر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے میں کہا گیا تھا کہ افغان سرزمین کو دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا تاہم امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں ہتھیار چھوڑے گئے جو شدت پسندوں کے پاس پہنچ گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین ماہ میں شدت پسندی کے زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جہاں اس معاملے پر ’سیاست کی جا رہی ہے۔۔۔ ایک کنفیوژن اور ابہام پیدا کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف یہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی فوج کے افسر و جوان، پولیس کے افسر، ہمارے ادارے اور بچے گورننس کے گیپ اپنے خون سے پورے کر رہے ہیں۔‘
جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی ریٹائرڈ جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’فوج کا قانونی عمل منصفانہ ہے۔ اس پر بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ فوج میں کسی کو سنوائی کا موقع نہیں دیا جاتا۔ (مگر) یہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل آپ کے سامنے ہو رہا ہے یہ خود اس بات کی گواہی ہے کہ فوج میں کسی کے خلاف قانونی کارروائی میں استغاثہ، دفاع، گواہان، جرح، شواہد کا پورا موقع دیا جاتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو تمام قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں، وہ اپنے لیے سول وکیل کر سکتے ہیں۔ ’یہ لیگل پراسس جاری ہے۔ یہ اپنے حتمی اور منصفانہ انجام تک پہنچے گا۔‘
افغانستان بمباری
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے پریس کانفرنس کے دوران دو مرتبہ یہ پوچھا گیا کہ آیا پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغانستان میں فضائی کارروائیاں کی ہیں۔
پہلی مرتبہ اس سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس کی تصدیق یا تردید کیے بغیر کہا کہ ’یہ جو آپ نے سٹرائیک کی بات کی اس پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر اور افغان (طالبان حکومت کے) ترجمان کے بیان کو نوٹ کیا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان ہمارا برادر پڑوسی ملک ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ لاکھوں افغان پناہ گزین کی مہمان نوازی کی ہے۔‘
ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’افغان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’افغان ٹرانزیٹ ٹریڈ بھی چل رہا ہے، ان سے ہماری تجارت جاری ہے۔ لوگ یہاں علاج کرانے آتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ افغان حکام کو بتایا گیا ہے کہ وہاں ٹی ٹی پی کے رہنما موجود ہیں اور یہ ان کے ٹھکانے ہیں۔ ’مگر پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور علاقائی سالمیت کے لیے ہم جو بھی ضروری اقدام ہے وہ پہلے بھی لیتے تھے اور اب بھی لیں گے۔‘
جب دوسری بار ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی فورسز نے گذشتہ شب کابل میں چار مقامات پر فضائی کارروائیاں کی ہیں اور اس میں ٹی ٹی پی کے رہنما نور ولی محسود کو اس میں نشانہ بنایا گیا ہے؟
ترجمان پاکستانی فوج نے کہا کہ ’میں آپ کو یہ واضح کر چکا ہوں کہ افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے شواہد موجود ہیں۔ پاکستان کے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں، وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 114 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 121 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4532 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3259 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2437 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C