02/December/2025

خیبر پختونخوا میں پولیس پر حملوں میں 3 اہلکار اور 5 عسکریت پسند ہلاک

👁️ 289 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا میں پولیس پر حملوں میں 3 اہلکار اور 5 عسکریت پسند ہلاک

خیبر پختونخوا میں پولیس پر حملوں میں 3 اہلکار اور 5 عسکریت پسند ہلاک

پشاور/بنوں/کرم (نمائندگان ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں پولیس پر حملوں کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے، جبکہ کرم میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں کم از کم پانچ عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

 

بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور کرم سمیت متعدد اضلاع میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

 

بنوں: پولیس اہلکار فائرنگ میں ہلاک

 

بنوں کینٹ کی حدود میں نامعلوم شدت پسندوں نے فائرنگ کر کے پولیس کانسٹیبل محمد طارق کو اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ ڈیوٹی کے لیے گھر سے نکل رہے تھے۔

 

واقعے کے بعد شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے میران شاہ روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔

 

ضلع بنوں میں گزشتہ دنوں بھی ایک پولیس تھانے پر حملے کے بعد مقامی قبائل اور پولیس نے مل کر فرار ہوتے شدت پسندوں کو گھیر لیا تھا۔ ریجنل پولیس افسر سجاد خان کے مطابق اس جھڑپ میں تین شدت پسند مارے گئے تھے جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔

 

کرم: پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، دو اہلکار ہلاک

 

ضلع کرم کے علاقے چنارک پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں پولیس اہلکار واحد خان اور فضل الرحمان جان ہلاک ہو گئے۔ دونوں اہلکاروں کی نماز جنازہ گزشتہ روز ادا کر دی گئی۔

 

ڈی پی او ملک حبیب کے مطابق پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے چار عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جبکہ چھ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

سکیورٹی فورسز نے سینٹرل کرم اور گردونواح میں سرچ آپریشن بھی شروع کر رکھا ہے۔

 

کلاچی اور دیگر علاقوں میں حملے

 

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے قریب سکیورٹی فورسز کے قافلے پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ پولیس ذرائع نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم آئی ایس پی آر کی جانب سے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

 

شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ

 

خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کی جانب سے گذشتہ چند روز میں کیے جانے والے بڑے حملوں میں پشاور میں فیڈرل کانسٹبلری کے ہیڈ کواٹر پر حملہ، بنوں میں امن کمیٹی پر حملہ، 10 نومبر کو جنوبی وزیرستان میں کیڈٹ کالج پر حملہ، 24 اکتوبر کو کرم میں آئی ای ڈی دھماکہ، 10 اکتوبر کو سڑک کنارے دھماکہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

 

سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

 

آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال صرف خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے خلاف 12 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جبکہ ملک بھر میں کارروائیوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار سے زیادہ رہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C