08/August/2025

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں کرفیو، سرچ آپریشنز اور عسکری کارروائی میں تیزی

👁️ 300 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں کرفیو، سرچ آپریشنز اور عسکری کارروائی میں تیزی

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں کرفیو، سرچ آپریشنز اور عسکری کارروائی میں تیزی

پشاور (ڈیلی اردو رپورٹ) خیبر پختونخوا کے شورش زدہ اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ شمالی وزیرستان، بنوں اور باجوڑ میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے سرچ آپریشنز اور عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 

شمالی وزیرستان میں طویل کرفیو نافذ

 

شمالی وزیرستان کے تمام علاقوں میں آج شام سے سوموار کی صبح تک طویل کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی فورسز کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کرفیو کے دوران صرف سیکیورٹی اہلکاروں کو نقل و حرکت کی اجازت ہو گی اور عوام کو سختی سے گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

بنوں کے علاقے ہوید میں سرچ آپریشن، تا حکمِ ثانی کرفیو

 

ضلع بنوں کے حساس علاقے ہوید میں ممکنہ دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کر دیا ہے۔ خطرات کے پیش نظر علاقے میں تا حکمِ ثانی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 5 بجے کے بعد گھروں سے باہر نہ نکلیں اور مشتبہ افراد کو قریب نہ آنے دیں۔ دہشتگردوں کو پناہ یا مدد دینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ عوام سے مکمل تعاون اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

 

باجوڑ میں آپریشن کی تیاری، کسانوں کو فصلیں کاٹنے کا حکم

 

تحصیل ماموند، ضلع باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے زمینداروں اور کسانوں کو حکم دیا ہے کہ سڑک کے دونوں اطراف 100 میٹر کے دائرے میں تین دن کے اندر اپنی فصلیں رضا کارانہ طور پر کاٹ لیں۔ عدم تعمیل پر کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔

 

ریاست کا واضح مؤقف: عسکریت پسندوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ریاست کی پالیسی واضح ہے کہ عسکریت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں سے کسی قسم کی بات چیت یا سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ذرائع نے بتایا کہ باجوڑ میں عسکریت پسند مقامی آبادی میں چھپ کر مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

 

قبائلی عمائدین کو تین آپشن دیے گئے ہیں:

 

1. عسکریت پسندوں کو خود نکالیں۔

2. اگر ممکن نہ ہو تو علاقہ عارضی طور پر خالی کریں تاکہ فورسز کارروائی کر سکیں۔

 

3. بصورت دیگر، جانی و مالی نقصان سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں۔

 

ریاستی مؤقف دوٹوک ہے کہ جب تک عسکریت پسند ریاست کے سامنے مکمل ہتھیار نہیں ڈالتے، ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C