سخت سزا سے تبدیلی ممکن ہے…! (انشال راؤ)
پاکستان دنیا کے نقشے پہ ابھرا تو مسائل کا پہاڑ نوزائیدہ ریاست کے سامنے کھڑا تھا، پے در پے حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں لیکن مسائل تبدیل نہ ہوے، ہر طرف بدانتظامی، لاقانونیت، بدعنوانی، رشوت ستانی، خودغرضی و مفاد پرستی بےلگام پھر رہی ہے، بہت سی حکومتیں آئیں اور آکر چلی گئیں لیکن مسائل و بدانتظامی کے معاملات کا جنگل جوں کا توں اپنی جگہ قائم ہے بلکہ اس جنگل کے درخت کی شاخیں مزید بڑھتی ہی گئیں جن کے منحوس سائے نے عوام کی مایوسیوں، بےبسی اور بےچارگی میں روز افزوں اضافہ در اضافہ ہی کیا، پچھلی تمام حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت نے بھی مسائل حل کرنے، خستہ حال نظام کو لپیٹنے اور عوام کو سکھ کا سانس مہیا کرنے کے دعوے کیے جو ابتک تو محض دعوے ہی ثابت ہوے، بدانتظامی و بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ دوہرا تہرا معیار قانون معاشرے کا سب سے اہم جُز بن چکا ہے نتیجتاً اخلاص و ایثار، ہمدردی و اپنائیت کا گراف انتہائی پستی کا شکار ہے، خودغرضی، مفاد پرستی و دشنام طرازی کا بازار گرم ہے، زمینی خدائیت کا بول بالا ہے جس پہ ہاتھ رکھو وہ کسی نہ کسی زمینی خدا کا بندہ نکلتا ہے، کوئی فلاں وڈیرے کا بندہ ہے تو کسی پہ طاقتور بیوروکریٹ کا ہاتھ ہے، کسی کی سرپرستی کوئی سرمایہ دار کررہا ہے تو کوئی کسی سردار کی بندگی میں خوش ہے الغرض کہ سب کسی نہ کسی زمینی خدا کے بندے ہیں حقیقی خدا کے بندے ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے اور جو خدا کے بندے ہیں تو ان کا حال یہ ہے کہ روز مرتے ہیں روز جیتے ہیں، معاشرے میں ہر طرف زہر پھیلا ہے خدا کا بندہ زہریلی فضا میں کیسے سانس لے؟ تقریباً ہر بیوروکریٹ، جج، جرنیل اور حکومت نے کہا کہ وہ عوام کو اس بےچارگی کے عالم سے چھٹکارہ دلائیں گے جہاں بہت سے خداوں کی پرستش لازم ہوکر رہ گئی ہے لیکن کوئی ایک وعدہ وفا نہ ہوا، موجودہ حکومت کے نیا پاکستان اور تبدیلی کے دعوے بھی محض دعوے ہی ثابت ہوے، کپتان کی مخلصی اور نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کپتان صاحب کی نیک نیتی و مخلصی کے باوجود بدانتظامی، اقربا پروری، بدعنوانی، لاقانونیت میں کمی کی بجائے اضافہ کیوں ہوا؟ اس کا جواب کوئی بہت زیادہ پیچیدہ نہیں بلکہ ایک کھلا راز ہے کہ روایت کے مطابق کپتان صاحب کی مخلصی و نیت صرف لفظوں تک ہی محدود ہے عملی طور پر اس کا وجود دور دور تک نظر نہیں آتا، ایسے میں پاکستان اور عوام انہی بدعنوان پاسبانوں کے ہاتھ میں ہی رہیگا جن کی مرضی و منشا سے ہمیشہ چلتا آرہا ہے، سیرت نبویؐ کا یہ واقع ششم جماعت کے نصاب کا حصہ ہے کہ ایک قبیلہ بنی مخزوم کی عورت چوری کے الزام میں پکڑی گئی جسے ہاتھ کاٹنے کی سزا دی گئی تو اہلیان قریش نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو آمادہ کرکے اس عورت کو معاف کرنے کے لیے سفارش پیش کی تو حضور پاکؐ پر جلال کی کیفیت کے آثار نمودار ہوگئے اور غضبناک لہجہ میں فرمایا کہ “تم سے پہلے کی قومیں اس لیے گمراہ ہوگئیں کہ جب کوئی امیر جرم کرتا تو چھوڑ دیا جاتا اور غریب پکڑا جاتا تو اسے سزا دی جاتی، خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتا” اس واقعہ نبویؐ کے تحت اگر مجرم کو بلاتفریق سزا دی جانے لگے تو لوگ جرم کرنے کے تصور سے بھی ڈریں لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ملّت کے پاسبان ہی مجرموں بلکہ جرائم کی سرپرستی کرتے ہیں، اس بات پہ مصرع زہن میں آرہا ہے کہ “یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے” یہ وہ مصرع ہے جو پاکستان کی موروثی اشرافیہ پہ صادر آتا ہے جو نسل در نسل ملک و ملّت کی پاسبانی کا بیڑہ اٹھائے ملک و قوم کا بیڑہ غرق کرتے آرہے ہیں، جو MNA, MPA ہیں انہی کی اولاد MNA, MPA بنتی آرہی ہے جو بیوروکریٹس ہیں انہی کی اولاد میں آگے چل کر یہ عہدے منتقل ہوجاتے ہیں، عوام بےچاری مجبور ہے کہ ان زمینی خداوں کی پرستش کرے ورنہ ان سے باعزّت جینے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے، کپتان صاحب کی نیت اچھی ہے لیکن اس کا کیا فائدہ جب عمل نہ ہو، کپتان صاحب کو بھی وہی پرانے ٹوپی ڈراموں کی نذر کردیا گیا ہے احساس پروگرام، ہیلتھ کارڈ، بلین ٹری سونامی وغیرہ وغیرہ لیکن عوام کا اصل مسئلہ “ہنوز روز اول است” کے مصداق اپنی جگہ قائم ہے، کل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام تھا آج اس کے غلط استعمال کے حیرنکن انکشافات سامنے آرہے ہیں، آنے والے وقت میں احساس کفالت و دیگر منصوبوں کے غلط استعمال کے انکشافات سامنے آئینگے وجہ عمران خان یا زرداری یا نوازشریف نہیں، درحقیقت مسئلہ صرف ایک ہے کہ ایک طرف میرٹ کی قدر نہیں کی جاتی دوسری طرف مجرم پر جرم ثابت ہونے کے باوجود میڈیا کی حد تک ڈگڈگی ضرور بجائی جاتی ہے جبکہ سزا نہیں دی جاتی ہے، پاکستان کے نمبر ون ریاضی دان و ماہر طبیعیات عامر قبال جس کی قابلیت کی معترف بیرونی دنیا بھی ہے لیکن افسوس ہائے افسوس پاکستان میں اسے رسوا کیا گیا، مجبوراً دلبرداشتہ ہوکر ملک چھوڑ گئے جہاں پندرہ دن میں دنیا کی نمبر ون ہاورڈ یونیورسٹی نے جاب آفر کردی اور تُف ہے ہمارے نظام پر جہاں سالوں تک ایسے قابل شخص کو کنٹیکٹ کی تلوار کے نیچے لٹکائے رکھا، مستقل نہ کیا گیا کیونکہ وہ کسی زمینی خدا کا بندہ نہیں تھا، تُف ہے ہمارے نظام پر جہاں اتنے بڑے نقصان پر کسی کو افسوس تک نہ ہوا، ہزار تُف ہماری سوچ پر کہ میڈیا میں بلاول کو چھینک آجائے تو ہفتہ ہفتہ پروگرام، کپتان نے یہ کہدیا تو مہینوں پروگرام، میاں صاحب کی طبیعت خراب تو سالہا سال پروگرام ہوتے رہتے ہیں لیکن عامر قبال اسکینڈل کو اس قابل ہی نہ سمجھا گیا کہ اینکر حضرات اس پر پروگرام کرتے، دراصل قصور اینکرز کا بھی نہیں وہ بھی تھک گئے ثبوتوں کے ساتھ پروگرام کر کر لیکن کسی ایک کو بھی سزا تو دور پوچھا تک نہیں گیا کیونکہ ملّت کے سارے پاسبان چاہتے ہی یہی ہیں کہ ان کی گوٹ چلتی رہے۔ ایک نوجوان ذوالفقار خاصخیلی مہران یونیورسٹی سے ME کرکے خوش قسمتی سے NTS امتحان پاس کرکے میرٹ پر MEPCO میں SDO مقرر ہوگئے، خان بیلہ میں تعیناتی کیساتھ عزم کیا کہ ایمانداری سے ڈیوٹی دونگا، بہت سے بجلی چوروں کو پکڑا، غریب صارفین کو اوور بلنگ نہ کی، وہاں کے MPA جناب علی نواز چانڈیو SDO صاحب کی ایماندارانہ روش سے سخت نالاں تھے، ذوالفقار خاصخیلی صاحب کو متعدد بار دھمکایا گیا پریشرائیز کیا گیا لیکن خاصخیلی صاحب نے حکمران جماعت PTI کے MPA علی نواز چانڈیو کی خدائیت تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو اعلیٰ افسران نے MPA صاحب کے کہنے پر خاصخیلی صاحب کا ریکارڈ ہی خراب کردیا کہ وہ عوام کو ہراساں کرتے ہیں، غریب صارفین کو اوور بلنگ نہ کی تو لاسز بڑھ گئے لہٰذا ایمانداری یہاں بھی ہار گئی اور جب مستقلی کے لیے کچھ دن پہلے SDO صاحب کمیٹی کے روبرو پیش ہوے تو “اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق کمیٹی نے یہ کہہ کر کہ آپکا تو ریکارڈ ہی خراب ہے انٹرویو کیے بغیر واپس لوٹا دیا یہ ہے ایمانداری کا صلہ جبکہ ایک ہادی بخش کلہوڑو ہیں موصوف سندھ پبلک سروس کمیشن میں کنٹرولر ایگزامینیشن کے عہدے پہ تعینات کیے گئے تو اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے کلہوڑو صاحب نے تیس رشتہ داروں و اپنے خاندان کے افراد کو میرٹ کی دھجیاں اڑا کر بھرتی کرلیا، میڈیا میں شور مچا لیکن معمول کے مطابق کوئی خاص ایکشن نہ لیا گیا جیسی حکومتیں ویسی ہی کورٹ ہیں فلمی ڈائیلاگ ایک سے بڑھ کر ایک لیکن عمل ٹکے کا نہیں، کپتان صاحب کے لیے اس سے بڑھ کر کیا موقع ہوگا کہ ملک کے اہم صوبے سندھ کے اہم ترین ادارے کی ساخ خراب کرنے اور اختیارات کے غلط استعمال و بدعنوانی کے مرتکب کنٹرولر صاحب کو نوکری سے برطرف کرتے ہوے جائیداد کی ضبطی کیساتھ کم از کم سزا عمر قید دی جائے اور موصوف کے تمام رشتہ داروں کو بھی فارغ کردیں تو کون ہے جو آئندہ اختیارات کے غلط استعمال کی جسارت کرے لیکن شاید یہ خواب دیوانے کا خواب ہی ثابت ہوگا کیونکہ پاکستان میں امیروں کو سزا ہونے کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے اور میرٹ ہمیشہ دربدر ہوتا رہیگا کہیں IBA ہیڈماسٹرز کی صورت تو کہیں عامراقبال اور کبھی ذوالفقار خاصخیلی کی شکل میں جبکہ زمینی خدا اپنا سکّہ چلاتے رہینگے کیونکہ پوری دنیا میں ان کی زبردستی کی پاسبانی پہ کسی کو اعتراز نہیں۔
نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 293 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 379 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 722 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 632 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 244 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 327 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8965 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4817 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3576 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3497 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C