02/September/2026

سعودی قیادت میں 14 ملکی بحری اتحاد فعال، باب المندب اور بحیرہ احمر میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کا فیصلہ

👁️ 46 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی قیادت میں 14 ملکی بحری اتحاد فعال، باب المندب اور بحیرہ احمر میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کا فیصلہ

سعودی قیادت میں 14 ملکی بحری اتحاد فعال، باب المندب اور بحیرہ احمر میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کا فیصلہ

ریاض(ڈیلی اردو) سعودی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ مختلف ممالک پر مشتمل کثیرالقومی دفاعی بحری اتحاد نے باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے، جس کا مقصد باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری راستوں اور تجارتی جہازرانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق اتحاد کی قیادت بحری میجر جنرل عبداللہ بن سالم الشہری کررہے ہیں، جبکہ پاکستانی بحریہ کے کموڈور راشد شیخ کو نائب کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ مختلف رکن ممالک کے رابطہ افسران بھی اتحاد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، جبکہ دیگر ممالک کی شمولیت کے لیے ضروری انتظامی کارروائیاں جاری ہیں۔

وزارت دفاع کے مطابق تمام رکن ممالک کے رابطہ افسران کی تعیناتی ان کے لیے مختص تعداد کے مطابق مرحلہ وار مکمل کی جائے گی۔

اتحاد کے کمانڈر کو مشترکہ دفاعی بحری کارروائیوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ رکن ممالک کے درمیان منصوبہ بندی اور رابطہ کاری، دیگر بحری اتحادوں کے ساتھ تعاون اور طے شدہ ضابطوں کے تحت مشترکہ سرگرمیوں کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

30 جولائی کو 14 ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کثیرالقومی دفاعی بحری اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ بیان میں بحری دفاع کے شعبے میں مشترکہ کوششیں بڑھانے، آزادانہ جہازرانی اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے ساتھ باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے ذریعے توانائی کی ترسیل کے راستوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

مشترکہ بحری آپریشنز مرکز کے قیام کا فیصلہ

اتحاد کے کمانڈر عبداللہ الشہری نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ 14 اگست کو جدہ میں مغربی بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والے تیسرے منصوبہ بندی اجلاس کے دوران مشترکہ بحری آپریشنز اور رابطہ کاری مرکز قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ان کے مطابق اجلاس میں اتحاد کو عملی مرحلے میں داخل کرنے، اس کے تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ اینڈ کنٹرول کے انتظامات اور مختلف شعبوں کی ذمہ داریوں کو حتمی شکل دینے پر بھی پیش رفت ہوئی۔

الشہری نے بتایا کہ متعدد ممالک نے اپنی داخلی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد مشترکہ اعلامیے کے ذریعے اتحاد میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق 15 ممالک نے مشترکہ بیان پر دستخط کیے جبکہ 13 ممالک نے اتحاد کے منشور پر دستخط کیے ہیں، جس کے بعد اتحاد کی عملی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر ممالک کی جانب سے بھی اتحاد میں شمولیت کی درخواستیں موصول ہورہی ہیں، جو بحری سلامتی سے متعلق مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعاون میں بڑھتی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C