02/September/2026

شام : جنگی باقیات کا خطرہ برقرار، ہر چھ گھنٹے میں ایک ہلاکت یا زخمی ہونے کا واقعہ

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام : جنگی باقیات کا خطرہ برقرار، ہر چھ گھنٹے میں ایک ہلاکت یا زخمی ہونے کا واقعہ

شام : جنگی باقیات کا خطرہ برقرار، ہر چھ گھنٹے میں ایک ہلاکت یا زخمی ہونے کا واقعہ

دمشق،(ڈیلی اردو) شام میں جنگ کے دوران بچ جانے والی بارودی سرنگیں اور پھٹنے سے رہ جانے والا جنگی مواد شہریوں کے لیے بدستور جان لیوا خطرہ بنا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں اوسطاً ہر چھ گھنٹے کے دوران ایک شخص ان خطرناک باقیات کے باعث ہلاک یا زخمی ہوجاتا ہے۔

تنظیم ’’ہالو ٹرسٹ‘‘ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات کے دھماکوں میں تقریباً 700 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں، جن میں لگ بھگ ایک تہائی بچے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں تقریباً ایک تہائی کیسز میں متاثرہ افراد کی موت واقع ہوئی۔

شام میں ہالو ٹرسٹ کے پروگرام ڈائریکٹر سائمن جیکسن نے بتایا کہ جنگی باقیات سے ہونے والے حادثات کی اوسط شرح تقریباً ہر چھ گھنٹے میں ایک ہلاکت یا زخمی ہونے تک پہنچ رہی ہے۔

ان کے مطابق غیر پھٹے ہوئے گولہ بارود اور دیگر جنگی مواد شہریوں کی اپنے تباہ شدہ گھروں اور کاروبار کو دوبارہ آباد کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جبکہ کسان بھی خطرناک علاقوں کے باعث اپنی زرعی زمینوں پر دوبارہ کاشت شروع نہیں کر پارہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال شام میں متاثرہ آبادیوں کی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

جیکسن نے کہا کہ جنگی باقیات کو مکمل طور پر صاف کرنے کے لیے طویل عرصہ درکار ہوگا۔ ان کے مطابق اگر صفائی کا موجودہ کام دگنا بھی کردیا جائے تو کم از کم مزید 10 سال لگ سکتے ہیں، جبکہ مسئلے کے مکمل خاتمے میں 20 سے 30 سال تک کا عرصہ بھی درکار ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر قیادت شام کے بارودی سرنگوں سے متعلق رابطہ کاری کے نظام کے اعداد و شمار کے مطابق 8 دسمبر 2024 سے اب تک دھماکہ خیز جنگی مواد سے متعلق 1,337 واقعات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، جن میں 2,375 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ متاثرین میں 850 سے زائد بچے شامل ہیں، جبکہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دمشق کے نواحی علاقے جوبر میں ہالو ٹرسٹ کے آپریشنز کے ذمہ دار حسین قزحلی نے بتایا کہ تقریباً آٹھ ماہ کی کارروائی کے دوران ٹیمیں صرف دو لاکھ مربع میٹر کے قریب سڑکوں کو جنگی باقیات سے پاک کر سکی ہیں۔ ان کے مطابق ملبہ، دھات، دھماکوں سے بکھرے ٹکڑے اور دیگر رکاوٹیں خطرناک مواد کی نشاندہی کے عمل کو مزید مشکل بناتی ہیں، جبکہ وسائل، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ضروری آلات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

دوسری جانب شامی وزارت دفاع نے بھی بارودی سرنگوں کی صفائی کے عمل میں درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بارودی سرنگوں کے علاقوں کے نقشے دستیاب نہیں، جبکہ آلودہ علاقوں کا رقبہ بھی بہت وسیع ہے۔ وزارت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر نئے مقامات کی نشاندہی ہورہی ہے، جس کے باعث فی الحال یہ بتانا ممکن نہیں کہ ملک کو جنگی باقیات سے مکمل طور پر کب پاک کیا جاسکے گا۔

#Syria #Landmines #WarRemnants #UnexplodedOrdnance #HumanitarianCrisis #SyriaWar

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C