31/March/2025

مردان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی: ڈرون حملےپر حکومتی وضاحتیں اور عوامی ردعمل

👁️ 99 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مردان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی: ڈرون حملےپر حکومتی وضاحتیں اور عوامی ردعمل

مردان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی: ڈرون حملےپر حکومتی وضاحتیں اور عوامی ردعمل

اسلام آباد (ڈیلی اردو رپورٹ) خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی تحصیل کاٹلنگ کے علاقے بابزئی میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر بحث جاری ہے۔ حکومتی اور عوامی سطح پر اس کارروائی کے بارے میں مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔

حکومتی بیانات اور وضاحتیں

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اس کارروائی کو سکیورٹی فورسز کا آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچا اور کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اس آپریشن میں 17 خارجی ہلاک ہوئے، اور کارروائی کی جگہ سے قریبی آبادی چھ سے نو کلومیٹر دور تھی، جہاں کوئی رہائشی گھر موجود نہیں تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شدت پسندوں نے عید پر مردان میں حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، جو اس آپریشن کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر الزام عائد کیا کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف بیانیے کی بجائے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہے۔

دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مستقبل میں اس طرح کی کارروائیوں کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور تمام پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد حتمی موقف دیا جائے گا۔

عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن اور مبینہ ڈرون حملہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ کاٹلنگ میں ہونے والی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی میں صرف شدت پسند ہلاک ہوئے۔ ان کے مطابق، اگر عسکریت پسند اپنے اہل خانہ کو اپنے ساتھ رکھیں اور حملوں کی تیاری کریں، تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

تاہم، مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ڈرون کی مدد سے کی گئی، جس میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے اس واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

عوامی ردعمل اور احتجاج

حملے کے بعد مقامی افراد نے سوات ایکسپریس ہائی وے پر ہلاک شدگان کی لاشیں رکھ کر احتجاج کیا۔ مقامی عمائدین اور حکام کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ احتجاج ختم ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، مظاہرین کے مطالبات میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو شہداء پیکج دینا، ایف آئی آر کا اندراج، اور مستقبل میں ایسی کارروائیاں نہ کرنے کی یقین دہانی شامل تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجا نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بے گناہ بچوں، عورتوں اور مردوں کی موت‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت جوابدہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے ناقابل قبول ہیں اور ان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

پاکستان کی ڈرون صلاحیت اور اس کا کردار

اگرچہ حکومت نے ڈرون حملے کے امکان کو رد کیا ہے، لیکن پاکستان کی بڑھتی ہوئی ڈرون صلاحیت اس بحث کا حصہ بن چکی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے ڈرون سسٹمز کو جدید بنایا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہو۔

ماضی میں بھی شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں کی ویڈیوز سامنے آتی رہی ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو خاص مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے روایتی فضائی کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

مردان کے کاٹلنگ واقعے پر مختلف آراء اور ردعمل سامنے آئے ہیں۔ حکومت اسے کامیاب آپریشن قرار دے رہی ہے، جبکہ کچھ حلقے عام شہریوں کی ہلاکت کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے نتائج اور سرکاری موقف مستقبل میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے اہم ہوں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C