13/October/2025

مریدکے: انتہا پسندوں کی فائرنگ سے انسپکٹر ہلاک، 48 اہلکار زخمی، سعد اور انس رضوی کیخلاف مقدمہ درج

👁️ 737 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مریدکے: انتہا پسندوں کی فائرنگ سے انسپکٹر ہلاک، 48 اہلکار زخمی، سعد اور انس رضوی کیخلاف مقدمہ درج

مریدکے: انتہا پسندوں کی فائرنگ سے انسپکٹر ہلاک، 48 اہلکار زخمی، سعد اور انس رضوی کیخلاف مقدمہ درج

لاہور (نمائندگان ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے شہر مریدکے میں انتہا پسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور جماعت کے متعدد رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

 

ایف آئی آر کے مطابق سٹیج پر موجود سعد رضوی نے اپنے قریب پڑا ہوا پسٹل اٹھا کر ایس ایچ او فیکٹری ایریا پر جان سے مارنے کی نیت سے سیدھی فائرنگ کی جس سے ایس ایچ او زخمی ہو کر گر گئے اور بعد میں ہلاک ہو گئے جبکہ انس رضوی نے اپنی رائفل سے فائرنگ کی جس سے دیگر پولیس اہلکار زخمی ہوئے، مقدمے میں دفعہ 302 قتل بھی شامل ہے۔ 

 

پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد تین سے ساڑھے تین ہزار کے درمیان تھی جن کے پاس ڈنڈے، سوٹے، پتھر، پیٹرول بم، اینٹیں اور بعض نے آتشیں اسلحہ بھی رکھا ہوا تھا، مظاہرین جی ٹی روڈ پر واقع ظفر آرکیڈ کے اطراف میں جمع تھے اور پولیس آپریشن کے دوران متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں نذر آتش ہو گئیں۔ 

 

ٹی ایل پی نے 10 اکتوبر کو راولپنڈی سے اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا تھا لیکن رکاوٹوں کے سبب مارچ کامیاب نہ ہو سکا، لاہور سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا اور شرکا سنیچر کی شب سے مریدکے میں قیام پذیر تھے۔

 

سعد رضوی نے اتوار کو کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی نہیں آیا۔ پیر کی صبح پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کیا جو پانچ گھنٹے جاری رہا۔

 

مقامی عینی شاہدین کے مطابق رات دو بجے کے قریب شیلنگ اور فائرنگ کا آغاز ہوا، ٹی ایل پی کے مرکزی کنٹینر کی لائٹیں بند ہو گئیں جس سے مظاہرین پریشان ہوئے، سعد رضوی نے مائیک پکڑ کر پولیس سے مذاکرات کی کوشش کی مگر آپریشن جاری رہا، شیلنگ اور فائرنگ کی آوازیں کبھی تیز اور کبھی ہلکی ہوتی رہیں اور دو تین جگہ آگ بھی لگتی دیکھی گئی، پولیس نے مختلف شہروں سے آنے والی ٹیموں کے ساتھ آپریشن مکمل کیا۔ 

 

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال مریدکے کی ایمرجنسی اور دیگر وارڈز میں زخمی مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے لیے بیڈ لگائے گئے، ڈاکٹر شہزاد کے مطابق صبح سے ڈیڑھ درجن پولیس اہلکاروں کو طبی امداد دی گئی جبکہ دیگر زخمی وارڈز میں موجود تھے۔ 

 

عینی شاہد اور مقامی رہائشی اورنگزیب بٹ نے بتایا کہ گھر کے اندر بچے سو رہے تھے کہ اچانک شور مچا اور آنسو گیس کی بُو داخل ہو گئی، انہیں اپنے چھوٹے بھائی کے مشورے پر گھر چھوڑنا پڑا کیونکہ باہر سانس لینا مشکل تھا۔

 

شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے صحافی حکیم محمود بیگ کے مطابق جب آپریشن شروع ہوا، تب مرکزی کنٹینر پر سعد رضوی، انس رضوی اور ٹی ایل پی کے مرکزی رہنما موجود تھے اور ان کے سکیورٹی رضاکار حصار بنائے ہوئے تھے، لائٹیں بند ہونے پر مظاہرین پریشان ہوئے، بعد میں لائٹیں آن ہوئیں اور سعد رضوی نے مائیک پکڑ کر پولیس سے مذاکرات کی کوشش کی۔

 

 

صحافی شیخ سفیان علی کے مطابق ٹی ایل پی کے  کارکن پانی اور نمک بڑی مقدار میں ساتھ لائے تھے اور کچھ گروپس پولیس اہلکاروں پر حملہ آور بھی ہوئے۔

 

 

شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس کے مطابق آپریشن رات دو بجے شروع ہوا اور صبح سات بجے تک مکمل ہوا، جی ٹی روڈ کی صفائی جاری ہے اور توقع ہے دوپہر تک صورتحال نارمل ہو جائے گی۔ 

 

پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران ایس ایچ او ہلاک اور 48 اہلکار زخمی ہوئے جن میں 17 کو گولیاں لگی ہیں، ٹی ایل پی سے تعلق رکھنے والے تین مظاہرین اور ایک راہگیر ہلاک ہوئے جبکہ آٹھ عام شہری زخمی ہوئے، اس دوران 40 سرکاری اور نجی گاڑیاں جلائی گئی ہیں، صورتحال کے بعد جلی ہوئی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، مرکزی کنٹینر، گولیوں اور آنسو گیس کے شیلز کے خول زمین پر بکھرے ہوئے ہیں اور مقامی افراد تصاویر لینے کے لیے موقع پر موجود ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C