مصری سفارتخانے پر پاکستان کی تاریخ کا پہلا خودکش حملہ؛پس منظر، تحقیقات اور تہلکہ خیز انکشافات
👁️ 325 بار دیکھا گیا
مصری سفارتخانے پر پاکستان کی تاریخ کا پہلا خودکش حملہ؛پس منظر، تحقیقات اور تہلکہ خیز انکشافات
واشنگٹن (ش ح ط) 19 نومبر 1995 کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف-6 میں واقع مصری سفارتخانے پر ہونے والا حملہ شروع سے آخر تک انتہائی منظم اور پرتشدد ثابت ہوا۔ صبح تقریباً نو بج کر تیس منٹ پر دو مسلح افراد سفارتخانے کے گیٹ پر پہنچے اور انہوں نے باہر موجود پاکستانی محافظوں پر فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے، جبکہ چند لمحوں بعد دھماکا خیز مواد سے بھرا ایک ٹرک احاطے میں داخل ہو کر زور دار دھماکے سے مرکزی دروازہ تباہ کر گیا۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا خودکش حملہ تھا۔ اس حملے میں دونوں خودکش حملہ آور، سفارت خانے کے سیکنڈ سیکریٹری، تین مصری سکیورٹی گارڈز اور دیگر 12 افراد جن میں پاکستانی سکیورٹی گارڈز، عام شہری اور کم از کم چار غیر ملکی سفارت کار بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً 60 افراد زخمی ہوئے۔ اگلے روز ہسپتال میں ایک مزید شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، یوں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 17 ہو گئی۔
پہلے دھماکے کے صرف تین منٹ بعد ایک دوسری جیپ، جس میں اس سے بھی بڑا بم نصب تھا، زور دار دھماکے سے پھٹ گئی۔ اس دھماکے نے سفارتخانے کی عمارت کے بڑے حصے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور ویزا سیکشن کی جگہ تقریباً دس فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔ شدتِ انفجار سے قریبی جاپان اور انڈونیشیا کے سفارت خانے، ایک بینک اور متعدد دفتری عمارتیں شدید متاثر ہوئیں، جبکہ شیشہ اور کنکریٹ کے ٹکڑے کئی گز دور تک جا گرے۔
منظرِ وقوعہ پر موجود پولیس کانسٹیبل محمد اقبال نے بتایا، ’’میں گیٹ کے باہر کھڑا تھا کہ ایک پولیس افسر کا جسم دیوار کے اوپر سے اڑ کر میرے پاس گرا۔‘‘ متعدد عینی شاہدین کے مطابق ملبے میں دبے زخمیوں کو نکالنے کے لیے ہزاروں لوگ ہاتھوں سے کنکریٹ ہٹاتے رہے۔ درجنوں ایمبولینسیں موقع پر پہنچیں اور فوج نے سفارتی زون کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر سڑکیں بند کر دیں۔ ہلاک شدگان میں دونوں خودکش حملہ آور، مصری سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری، تین مصری سیکیورٹی گارڈز، پاکستانی سیکیورٹی اہلکار، عام شہری اور کم از کم چار غیر ملکی سفارتکار شامل تھے، جبکہ مصری سفیر محمد نعمان جلال اسی وقت سفارتخانے میں موجود نہ ہونے کے باعث محفوظ رہے۔
واقعے کے فوراً بعد متعدد عسکریت پسند گروہوں نے ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے کیے۔ تاہم مصر کی وزارتِ داخلہ اور بین الاقوامی تفتیشی ماہرین نے ابتدائی طور پر اس حملے کے پیچھے القاعدہ سے وابستہ مصری جہادی نیٹ ورکس، خصوصاً الجماعة الاسلامیہ اور Egyptian Islamic Jihad کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ بعض رپورٹس میں تین مختلف مصری گروہوں کے دعوے درج تھے، مگر بعد ازاں شواہد اور ایمن الظواہری کی تحریروں نے اشارہ دیا کہ حملہ بنیادی طور پر ظواہری کے منصوبے کا حصہ تھا۔ انہوں نے بعد میں ’’الشرق الاوسط‘‘ میں شائع شدہ یادداشتوں میں لکھا کہ ’’ہمیں مصری حکومت کی خارجہ کارروائیوں کے ردعمل میں اسلام آباد کو نشانہ بنانا پڑا کیونکہ وہاں مصری بنیاد پرستوں کا پیچھا اور جاسوسی ہو رہی تھی۔‘‘
تفتیش کا اہم موڑ اس وقت آیا جب ملبے سے تباہ ہونے والی گاڑی کا انجن بلاک نسبتاً محفوظ حالت میں ملا۔ انجن نمبر کے ذریعے گاڑی کے آخری رجسٹرڈ مالک کا سراغ ملا جس نے بتایا کہ اس نے یہ گاڑی دو افراد کو فروخت کی تھی۔ اس اہم سراغ نے تفتیش کو تیز کیا اور پاکستانی حکام نے کارروائیوں کے دوران چند دنوں میں چھ مصری، دو افغان اور دو اردنی شہری گرفتار کیے۔ دسمبر 1995 تک مجموعی طور پر 16 افراد حراست میں لے لیے گئے۔ نامزد مشتبہ افراد میں شامل کینیڈین نژاد احمد خضر کو جنوری 1996 میں گرفتار کیا گیا لیکن شواہد کی کمی کے باعث مارچ 1996 میں رہا کر دیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا اور انٹیلی جنس رپورٹس میں اس حملے کو ’’رمزی یوسف کی حوالگی کا بدلہ‘‘ بھی قرار دیا گیا، جبکہ بعض سرکاری بیانات میں کہا گیا کہ یہ کارروائی مصر کو مطلوب دس مبینہ دہشت گردوں کی حوالگی کے ردعمل میں کی گئی۔ القاعدہ کے ایک آپریشنل کمانڈر ابو حَفس المصری نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی مصری انٹیلیجنس کے ہاتھوں قیدیوں پر مبینہ تشدد اور زیادتیوں کے بدلے میں کی گئی۔
مائیکل شیپرڈ کی کتاب Guantanamo’s Child، ڈگلس جیہل اور متعدد بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس حملے کو اس سال ادیس ابابا میں صدر حسنی مبارک پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے سے جوڑتے ہوئے اسے ایک مربوط بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا۔ 26 جون 1995 کے ادیس ابابا حملے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور پانچ حملہ آور مارے گئے تھے، مگر مبارک محفوظ رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد اور ادیس ابابا کے حملے ایک ہی نیٹ ورک کی جانب سے کیے گئے منصوبے تھے جن کا مقصد مصر پر دباؤ ڈالنا اور اس کے داخلی کریک ڈاؤن کے جواب میں بیرونِ ملک کارروائیاں انجام دینا تھا۔ مصری وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈیئر محمود فشاوی نے کہا، ’’یہ واضح ہے کہ وہ اب ملک سے باہر بھی کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘‘ اسی دوران پاکستان کے وزیرِ داخلہ نصیر اللہ بابر نے سیکیورٹی میں ممکنہ غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، ’’اتنے افراد کی موت پر میرا سر شرمندگی سے جھکتا ہے۔‘‘
وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے صدر حسنی مبارک سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مکمل تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔
امریکی صدر بل کلنٹن نے اس کارروائی کو ’’قتلِ عام‘‘ قرار دیا اور مصر و فرانس کی قیادت سے رابطے میں رہتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ پاکستان اور مصر کو ہر ممکن تفتیشی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی سفارتخانے کے ترجمان جیک مک کری نے کہا کہ وہ پاکستان کی طرف سے فراہم کردہ سیکیورٹی اقدامات سے مطمئن ہیں، تاہم ان کے اپنے اضافی ٹارگٹڈ پروٹوکول بھی نافذ ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ خارجہ سردار آصف احمد علی نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ممکنہ طور پر خودکش بمبار نے گیٹ پر دھماکہ کر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان گل حنیف نے غیر ملکی مشنز کی سیکیورٹی کا از سرِ نو جائزہ لینے کا اعلان کیا۔ واقعے کے بعد پاکستان نے مصر کے ساتھ ایک سال قبل طے پانے والے حوالگی معاہدے کے تحت متعدد مصری شہریوں کو ملک بدر کر دیا۔ مصر نے مشتبہ افراد کی وہ فہرست بھی فراہم کی تھی جس میں الجماعة الاسلامیہ کے کئی ارکان شامل تھے۔
کچھ رپورٹس کے مطابق افغانستان کی 1980 کی دہائی کی جنگ کے تجربہ کار عرب مجاہدین اور مقامی سہولت کار بھی اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ اسلام آباد حملے کی خبر ملتے ہی افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے درونتہ تربیتی کیمپوں میں شدید ہوائی فائرنگ کے ساتھ جشن منایا گیا۔
یہ واقعہ صرف ایک دہشت گرد حملہ نہیں تھا، بلکہ ایک عالمی جہادی نیٹ ورک کی بیرونِ ملک سرگرمیوں کا وہ سنگ میل تھا جس نے پاکستان کے سکیورٹی ڈھانچے، علاقائی روابط اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی۔ اس واقعے نے اسلام آباد کے سفارتی زون کی حفاظت کے طریقہ کار کو مکمل طور پر بدل دیا۔ خصوصی پروٹوکول نافذ ہوئے، اداروں کی تنظیمِ نو کی گئی، اور پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کی اپنی حکمتِ عملی کا جامع جائزہ شروع کیا۔ اس حملے کے اثرات خطے اور عالمی سطح پر کئی برسوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔
بالآخر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی قیادت ایمن الظواہری کے ہاتھ میں آگئی۔ ایف بی آئی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ایمن الظواہری 31 جولائی 2022 کو کابل، افغانستان میں ایک امریکی ڈرون میزائل حملے میں ہلاک ہو گئے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8816 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4529 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3257 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2437 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2080 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1884 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C