22/October/2026

مکّہ معاہدہ کا متن سامنے آگیا

👁️ 57 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مکّہ معاہدہ کا متن سامنے آگیا

مکّہ معاہدہ کا متن سامنے آگیا

اسلام آباد/ ریاض / استنبول(ڈیلی اردو)  - جمہوریہ ترکیہ کی حکومت، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور مملکتِ سعودی عرب کی حکومت (جنہیں بعد ازاں "فریق"، "فریقین" یا "بنیادی فریقین" کے نام سے یاد کیا گیا ہے) کے مابین یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے:

فریقین ایک دوسرے کی آزادی، خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ و حرمت کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کریں گے۔ اگر کسی بھی فریق کی خودمختاری، سالمیت یا بین الاقوامی سرحدوں کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو تمام فریقین ایسے خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ناگزیر ذرائع بروئے کار لائیں گے۔ مزید برآں، کسی بھی فریق کے خلاف باہر سے ہونے والے مسلح حملے کو تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ایسی صورت میں، اگر کوئی فریق کسی دوسرے ملک یا ممالک کے گروہ کی عسکری جارحیت کا نشانہ بنتا ہے، تو دیگر فریقین فوری طور پر متاثرہ فریق کی ہر ممکن امداد کریں گے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت تسلیم شدہ حقِ دفاعِ خود اختیاری کو مؤثر بنانے کے لیے، فریقین مطلوبہ ضروریات کے معروضی جائزے کے بعد باہمی مدد کے دائرہ کار اور نوعیت کا تعین کریں گے اور اپنی عسکری صلاحیتوں سمیت تمام دستیاب وسائل کی حدود میں رہتے ہوئے اشتراکِ عمل کو یقینی بنائیں گے۔

 

اس اشتراک کو آگے بڑھاتے ہوئے فریقین دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں قریبی ربط قائم کریں گے، اپنی مسلح افواج کے مابین تعلقات کو وسعت دیں گے اور دفاعی تعاون کو پائیدار بنانے کے لیے طے شدہ سرگرمیاں سرانجام دیں گے۔ بین الاقوامی سلامتی سے متعلق امور پر باقاعدہ مشاورتی عمل جاری رکھا جائے گا اور اپنے کلیدی مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کی خاطر مشترکہ جائزوں کی بنیاد پر انفرادی و اجتماعی حکمتِ عملی تیار کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو متاثر کرنے والی ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور کارروائیوں کو نچلی سطحی تک مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

جنگی اور پرامن دونوں حالتوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے فریقین دفاعی اداروں کے اہلکاروں کے تبادلوں، مشترکہ تربیتی پروگراموں، مشقوں اور باہمی ہم آہنگی بڑھانے والی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ اسی طرح دفاعی صنعت کے اداروں کے درمیان ٹیکنالوجی کی شراکت، مشترکہ تحقیق و ترقی (R&D)، اور مشترکہ پیداوار کو باہمی اتفاقِ رائے سے فروغ دیا جائے گا۔ اس تعاون کے بنیادی دائرہ کار میں دفاعی پیداوار، خصوصی مہارتوں کی حامل ٹیکنالوجیز میں جدت طرازی، فریقین کے علاقوں میں ماہرین کے ذریعے عملے کی تربیت و صنعت کی معاونت، اور دفاعی تحقیق کے تجربات کا تبادلہ شامل ہوں گے۔

 

معاہدے پر عمل درآمد اور مشترکہ دفاع کی تزویراتی سمت متعین کرنے کے لیے بنیادی فریقین کی جانب سے ایک "اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی" قائم کی جائے گی، جو فریقین کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل اسٹاف پر مشتمل ہوگی۔ یہ کمیٹی سال میں دو مرتبہ باری باری فریق ممالک میں اجلاس منعقد کرے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر سربراہانِ مملکت و حکومت کا سالانہ اجلاس بھی ہو سکے گا۔ کمیٹی کو ذیلی کمیٹیاں قائم کرنے اور اتفاقِ رائے سے نئے فریقین کی شمولیت کے طریقہ کار و اصول وضع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس کمیٹی کے امور کو چلانے کے لیے سعودی عرب میں ایک مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کا سربراہ تین سالہ مدت کے لیے بنیادی فریقین کے درمیان باری باری مقرر ہونے والا سیکرٹری جنرل ہوگا۔ معاہدے کے تحت پہلا سیکرٹری جنرل اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شہری ہوگا۔

 

فریقین انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ معلومات کے تحفظ، ڈیٹا پروٹیکشن اور رازداری کے اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے باہمی طور پر طے شدہ محفوظ ذرائع سے کریں گے۔ علاوہ ازیں، پرامن حالات، جنگ یا دیگر ہنگامی صورتحال کے دوران لاجسٹک خدمات کی دستیابی اور مطابقت کے تحت ایک دوسرے کو ہتھیار، گولہ بارود، ایندھن، اسپیئر پارٹس اور دیگر ضروری سازوسامان کی فراہمی میں مکمل معاونت دی جائے گی۔ بین الاقوامی قوانین اور مقامی قوانین پر اثر انداز ہوئے بغیر یہ معاہدہ متعلقہ قانونی بنیاد فراہم کرے گا اور ضرورت پڑنے پر مزید قانونی اقدامات تجویز کیے جا سکیں گے۔

 

یہ معاہدہ فریقین کے ان حقوق اور ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہوگا جو انہوں نے اس سے قبل دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت قبول کر رکھی ہیں۔ معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی خفیہ معلومات و دستاویزات کی رازداری کا کڑا احترام کیا جائے گا اور انہیں کسی تیسری ریاست، کمپنی یا غیر متعلقہ فرد کے ساتھ شیئر نہیں کیا جائے گا۔ اس مواد تک رسائی محض "ضرورت کی بنیاد" (Need-to-know) اور باقاعدہ سیکیورٹی کلیئرنس کے حامل افراد تک محدود رکھی جائے گی۔

معاہدے کی تفہیم یا اطلاق سے متعلق کسی بھی تنازعے کو فریقین کے باہمی مشورے اور مذاکرات کے ذریعے دوستانہ انداز میں حل کیا جائے گا، جبکہ اس میں کسی بھی قسم کی ترمیم بنیادی فریقین کے مکمل اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہو سکے گی۔ معاہدے کی باقاعدہ توثیق ہر ملک کے اپنے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوگی اور یہ اس دن سے نافذ العمل ہوگا جب حتمی توثیقی دستاویز سیکرٹریٹ کے پاس جمع کرا دی جائے گی۔

 

یہ دفاعی معاہدہ غیر معینہ مدت کے لیے نافذ رہے گا؛ البتہ نفاذ کے دس سال مکمل ہونے کے بعد کوئی بھی فریق سفارتی ذرائع سے کم از کم تین ماہ قبل تحریری نوٹس دے کر اس سے الگ ہو سکتا ہے۔ معاہدے کی تنسیخ یا کسی فریق کی علیحدگی سے وہ سرگرمیاں اور منصوبے متاثر نہیں ہوں گے جو علیحدگی کی تاریخ سے قبل باہمی طور پر طے پا چکے ہوں گے۔ اسی طرح خفیہ معلومات کے تحفظ اور ان کی رازداری برقرار رکھنے کی ذمہ داریاں معاہدے کے خاتمے کے بعد بھی بدستور عائد رہیں گی۔ یہ دستاویز ترکی، عربی اور انگریزی زبانوں میں تین اصل نقول میں تیار کی گئی ہے اور متن کی تشریح میں اختلاف کی صورت میں انگریزی متن کو حتمی و معتبر تسلیم کیا جائے گا۔ 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C