22/October/2026

10 سالہ دفاعی گھیراؤ: ترکیہ مکہ معاہدے کی توثیق کے لیے تیار، مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی!

👁️ 42 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
10 سالہ دفاعی گھیراؤ: ترکیہ مکہ معاہدے کی توثیق کے لیے تیار، مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی!

10 سالہ دفاعی گھیراؤ: ترکیہ مکہ معاہدے کی توثیق کے لیے تیار، مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی!

انقرہ ، اسلام آباد (ڈیلی اردو)  ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے تاریخی سہ فریقی "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" کی باضابطہ توثیق کا عمل شروع کرتے ہوئے مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج کو ریاض کے ساتھ باضابطہ دفاعی وعدے کے اور قریب لے آئی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں ایک مشترکہ دفاعی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو کہ نیٹو کے چارٹر کے آرٹیکل 5 اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے حقِ دفاعِ خود اختیاری سے مماثلت رکھتا ہے۔

 

معاہدے کی دفعات کے مطابق فریقین ایک دوسرے کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت اور بین الاقوامی سرحدوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری ذرائع بروئے کار لائیں گے، جبکہ دفاعی صنعت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، لاجسٹک سپورٹ، جدید ٹیکنالوجی کی مشترکہ پیداوار اور ہر قسم کی دہشت گردی کے انسداد کے لیے مربوط تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ معاہدے کی رو سے ابتدائی 10 برسوں کے دوران کوئی بھی ملک اس اتحاد سے یکطرفہ طور پر الگ نہیں ہو سکے گا، جبکہ توثیقی دستاویزات ریاض میں قائم سیکرٹریٹ میں جمع ہونے پر یہ غیر معینہ مدت کے لیے نافذ العمل ہو جائے گا۔

 

جہاں پاکستان اپنے آئینی طریقہ کار اور انتظامی اختیارات (آرٹیکل 90) کے تحت اس معاہدے کی پہلے ہی توثیق کر چکا ہے اور واضح کر چکا ہے کہ معاہدے کے تحت 'اجتماعی انسدادی اقدامات' پہلے سے فعال ہیں، وہیں ترکیہ کے آئین کے مطابق معاہدے کی توثیق اور بیرونِ ملک فوج کی تعیناتی کے لیے پارلیمان کی باضابطہ منظوری لازم ہے۔ ترک اسپیکر پارلیمنٹ اس مسودے کو خارجہ امور کی کمیٹی کے سپرد کریں گے جہاں اس پر تفصیلی اور گرما گرم بحث متوقع ہے۔ ترک ایوانِ صدر کے شعبہ ابلاغیات کے ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے اسے تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کا اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔

 

دوسری جانب ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ کوئی جارحانہ معاہدہ نہیں ہے اور انقرہ کی جانب سے دیگر ملکوں میں فوج بھیج کر حملے کرنے کا ارادہ نہیں، بلکہ ترک حکام کے مطابق ترکیہ کا ابتدائی کردار اسلحہ، عسکری سازوسامان اور انٹیلی جنس شیئرنگ تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران خطے میں ممکنہ توسیعی پیش رفت کے تحت مصری پارلیمنٹ بھی 26 اکتوبر کو سعودی عرب کی ممکنہ عسکری حمایت کے حوالے سے ووٹنگ کرے گی، جب کہ دوحہ میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے مابین دفاعی صنعتی تعاون کے ایک علیحدہ اہم معاہدے پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C