09/October/2026

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ جارحانہ نہیں، سعودی عرب کا دفاع اس کا بنیادی مقصد ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

👁️ 71 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ جارحانہ نہیں، سعودی عرب کا دفاع اس کا بنیادی مقصد ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ جارحانہ نہیں، سعودی عرب کا دفاع اس کا بنیادی مقصد ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد(ڈیلی اردو) پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تمام اقدامات خالصتاً دفاعی نوعیت کے ہوں گے، جبکہ اس کا مقصد کسی ملک کو دوست یا دشمن قرار دینا نہیں بلکہ علاقائی سلامتی اور سعودی عرب کے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں، اس لیے یہ معاہدہ کوئی اچانک سامنے آنے والا انتظام نہیں۔ ان کے مطابق خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی حالات اور نئے خطرات کے پیش نظر مشترکہ دفاعی تعاون کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی اور ان کے استعمال سے متعلق فیصلے آپریشنل کمانڈرز کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت کسی ایک فریق کے خلاف حملے کو تمام متعلقہ فریقوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا مقصد ممکنہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور پُرامن حل تلاش کرنے کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں غیر جانب دارانہ کردار ادا کیا، کیونکہ خطے میں جنگ کا پھیلاؤ کسی کے مفاد میں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C