وینزویلا: نکولس حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو امریکی اہلکار گرفتار
👁️ 73 بار دیکھا گیا
وینزویلا: نکولس حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو امریکی اہلکار گرفتار
کراکس (ڈیلی اردو/وائس آف امریکا) وینزویلا میں حکام نے امریکی سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ وہ صدر نکولس مدورو کی حکومت ختم کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق حزب اختلاف کے رہنما جون گوائیڈو پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے منصوبے کی مالی مدد کر رہے تھے۔
حکومت نے یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں کی ہے جب ایک دن قبل ساحلی شہر لا گویرا میں سمندری راستے سے دہشت گردی کی کوشش کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
Luke Denman y Airon Barry son dos de los mercenarios detenidos. Ambos son veteranos de Irak y Afganistán. Según @JackMurphyRgr sirvieron bajo el Décimo Grupo de Fuerzas Especiales (ODA0136) de Estados Unidos pic.twitter.com/3TzuLy2d1s
— Daniel Blanco (@DanielBlancoPaz) May 5, 2020
حکام کے مطابق حملہ کرنے والے 8 کرائے کے دہشت گردوں کو فورسز نے ہلاک کر دیا تھا جب کہ دو کو حراست میں لیا گیا ہے۔
صدر نکولس مدورو سرکاری ٹی وی پر جب خطاب کرنے آئے تو انہوں نے دو پاسپورٹ دکھائے جن پر 34 سالہ لوک ڈینمن اور 41 سالہ ایرن بیری کے نام درج تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ دونوں افراد امریکی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔
https://twitter.com/NicolasMaduro/status/1257734404472033280?s=19
قبل ازیں ملک کے اٹارنی جنرل ٹیرک ولیم نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ کرائے کے فوجیوں نے حزب اختلاف کے رہنما جون گوائیڈو سے 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کا معاہدہ کیا تھا۔ ان کو ملک کی سرکاری تیل کی کمپنی سے خرد برد کی گئی رقم سے ادائیگی کی جانی تھی۔
خیال رہے کہ امریکہ نے وینزویلا کی سرکاری تیل کی کمپنی پر پابندی عائد کر رکھی اور اس کے تمام اکاؤنٹس بھی منجمد ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی حزب اختلاف کے رہنما جون گوائیڈو کو اجازت دی ہے کہ وہ اس سرکاری تیل کی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والی فرم کے اکاؤنٹ سے رقم خرچ کر سکتے ہیں۔
https://twitter.com/camilateleSUR/status/1257545708716113920?s=19
خیال رہے کہ جنوری 2019 سے جون گوائیڈو خود کو قائم مقام صدر بھی قرار دیتے ہیں۔ امریکہ سمیت 50 ممالک ان کی حمایت کرتے ہیں۔
اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جون گوائیڈو نے امریکہ کی اسپیشل فورسز کے سابق اہلکار جورڈن گوڈرو سے معاہدہ کیا تھا۔
‘اے ایف پی’ کے مطابق وینزویلا کے حکام کا کہنا ہے کہ عراق اور افغانستان میں جنگ میں خدمات انجام دینے والے جورڈن گوڈرو پر الزام ہے کہ انہوں نے وینزویلا میں حملہ کرنے کے لیے کرائے کے فوجیوں کا جتھہ تیار کیا اور ان کی تربیت بھی کی۔
وینزویلا کے اٹارنی جنرل نے جورڈن گوڈرو کی ایک سوشل میڈیا ویڈیو بھی دکھائی جس میں دکھایا گیا کہ سابق فوجی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے وینزویلا کے صدر کے خلاف ایک آپریشن کیا۔
قبل ازیں ملک کے وزیر داخلہ نیسترو ریورل نے حملہ آوروں کو ‘کرائے کے دہشت گرد’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ آور پڑوسی ملک کولمبیا سے آئے تھے تاہم وینزویلا کی فورس کی بروقت کارروائی سے ان کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔
ملکی ذرائع ابلاغ پر خطاب کرتے ہوئے نیسترو ریورل کا کہنا تھا کہ کولمبیا سے آنے والے کرائے کے دہشت گردوں نے سمندری راستے سے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ وینزویلا میں دہشت گردی کرتے ہوئے انقلابی حکومت کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔
وزیر داخلہ نے فورسز کے آپریشن میں کچھ ہلاکتوں کا ذکر بھی کیا تاہم یہ نہیں بتایا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد کتنی تھی اور وہ کون تھے۔
خیال رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی حکومت سیاسی مخالفین پر ان کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار حکومت کے الزامات کو درست نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی مہم قرار دیتے ہیں۔
نکولس مدورو کی حکومت گزشتہ چھ سال سے ملک میں جاری معاشی بحران سے نبرد آزما ہے۔
وینزویلا میں 2018 میں متنازع انتخابات ہوئے تھے جس کے بعد امریکہ سمیت 50 ممالک نے حزب اختلاف کے رہنما جون گوئیڈو کی حمایت کی تھی۔ تاہم نکولس مدورو کا فوج پر کنٹرول برقرار رہا اور وہ برسر اقتدار رہے۔
وینزویلا کی حکمران جماعت سوشلسٹ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر ڈیوسڈاڈو کیبیلو کا الزام تھا کہ حملے کو امریکہ اور اس کی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی (ڈی ای اے) نے کولمبیا کی مدد سے ترتیب دیا تھا۔
کولمبیا نے اس حملے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ وینزویلا پہلے بھی کولمبیا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ صدر مدورو کی حکومت کے خاتمے کے لیے منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔
وینزویلا کے اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے 114 افراد کو حراست میں لیا ہے جب کہ 92 مزید افراد کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان تمام افراد کو 2018 میں صدر مدورو پر بارودی مواد سے لدے ڈرونز کے ذریعے حملہ کرنے اور اس میں معاونت کا الزام ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
چاغی : نجی کانوں سے اغوا کیے گئے تمام 7 افراد بحفاظت بازیاب
06/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
شام :وزارت دفاع سے منسوب بھرتی فارم پر مذہبی سوالات، سوشل میڈیا پر شدید بحث
06/September/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں امن و استحکام معاشی ترقی کی بنیاد ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
06/September/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیاں، 21 دہشتگرد ہلاک
06/September/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
کوئٹہ : شالکوٹ تھانے پر دستی بم حملہ، پولیس اہلکار اور راہگیر زخمی
06/September/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
شام : سابق فوجی افسر جلال کامل صقر گرفتار، جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام
06/September/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26275 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15524 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11808 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9101 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7391 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5086 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C