12/November/2025

پاکستان: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا: 14 افراد ہلاک، زخمی

👁️ 288 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا: 14 افراد ہلاک،  زخمی

پاکستان: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا: 14 افراد ہلاک، زخمی

اسلام آباد (ڈیلی اردو رپورٹ) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ضلعی عدالت کمپلیکس کے باہر منگل کی دوپہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہو گئے، دھماکہ دوپہر 12 بج کر 39 منٹ پر اس وقت ہوا جب کچہری کا علاقہ معمول کے مطابق لوگوں سے بھرا ہوا تھا، دھماکے سے قریبی گاڑیوں اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ آواز میلوں دور تک سنی گئی۔ 

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ پر کہا کہ یہ حملہ کچہری میں موجود شہریوں اور عدالتی عملے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا۔ 

 

ایک عینی شاہد وکیل رستم ملک نے اے ایف پی کو بتایا کہ جیسے ہی وہ گاڑی پارک کر کے اندر داخل ہونے لگے زوردار دھماکہ ہوا جس سے افرا تفری مچ گئی، انہوں نے دروازے کے قریب دو لاشیں اور جلتی گاڑیاں دیکھیں۔ 

 

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور کا تعلق باجوڑ سے تھا جو جمعے کے روز اسلام آباد پہنچا، اس نے پیر ودھائی سے موٹر سائیکل حاصل کی اور چادر اوڑھے کچہری کے داخلی راستے تک آیا جہاں اس نے پولیس موبائل کے قریب خود کو اڑا لیا، جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر ملا ہے۔ 

 

آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے مطابق دھماکے میں 8 کلو گرام کے قریب بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کیے گئے، 92 سی سی ٹی وی فوٹیجز کا تجزیہ جاری ہے، مشکوک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی کو قبضے میں لے لیا گیا ہے اور سی ٹی ڈی، حساس ادارے، فارنزک اور سیف سٹی کی ٹیمیں مشترکہ تحقیقات کر رہی ہیں۔ 

 

اس خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہدف ججز، وکلاء اور عدالتی اہلکار تھے اور گروہ نے واضح کیا کہ ’ملک میں شریعت نافذ ہونے تک حملے جاری رہیں گے‘۔ 

 

چیف ایڈیٹر ڈیلی اردو شبیر حسین طوری کے مطابق جماعت الاحرار ماضی میں واہگہ بارڈر، لاہور چیئرنگ کراس، پشاور پولیس لائنز مسجد اور کوئٹہ سرینا ہوٹل دھماکے سمیت متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے اور امریکی حکومت اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے جبکہ اس گروہ کا اہم گڑھ قبائلی ضلع مہمند تصور کیا جاتا ہے۔ 

 

وزیراعظم پاکستان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو تحقیقات تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ شہریوں کا خون بہانے والوں کے خلاف کارروائی میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ 

 

صدر مملکت، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی دھماکے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے ہلاک شدگان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ 

 

ترکی، چین، سعودی عرب اور یورپی یونین نے بھی اپنے بیانات میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر تعاون کے عزم کا اظہار کیا، چین نے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں میں ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ 

 

دھماکے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور 36 زخمیوں میں سے 6 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ 

 

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ملک میں شدت پسند حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اسی روز جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں کیڈٹ کالج پر خودکش حملہ ناکام بنایا گیا تھا، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف جاری آپریشن میں تیزی لائی جا رہی ہے۔ 

 

مزید شواہد اور شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہلاک شدگان اور زخمیوں کی فہرست جاری کی جائے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C