17/August/2025

پاکستان: انسدادِ دہشت گردی ترمیم منظور، مشتبہ افراد تین ماہ حراست میں رہ سکیں گے

👁️ 421 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان: انسدادِ دہشت گردی ترمیم منظور، مشتبہ افراد تین ماہ حراست میں رہ سکیں گے

پاکستان: انسدادِ دہشت گردی ترمیم منظور، مشتبہ افراد تین ماہ حراست میں رہ سکیں گے

اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے انسدادِ دہشت گردی قوانین میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد کو تین ماہ تک حراست میں رکھ سکیں، اور ضرورت پڑنے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی منظوری سے مزید تین ماہ کے لیے بھی حراست بڑھائی جا سکے۔

 

ترمیم کی تفصیلات اور اثرات

 

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ یہ قانون دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے اور اس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی کرنے کے لیے قانونی جواز ملے گا۔ قانون تین سال کے لیے نافذ العمل ہوگا۔

قانون کے مطابق اگر حراست کا حکم مسلح افواج یا سول مسلح افواج کی جانب سے جاری کیا جائے گا تو تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی، جس میں پولیس کے اعلیٰ افسر، خفیہ ایجنسیاں اور دیگر ادارے شامل ہوں گے۔

 

اپوزیشن اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی تنقید

 

انسدادِ دہشت گردی قوانین میں دیے گئے اضافی اختیارات پر انسانی حقوق کے کارکن، وکلا اور حزب اختلاف کی جماعتیں تنقید کر رہی ہیں اور اسے غیر آئینی قرار دے رہی ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اسے ’کالا قانون‘ قرار دیا جبکہ سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ اس سے قانون مزید غیر انسانی اور غیر دستوری بن جائے گا۔

 

انسانی حقوق کی کارکن و وکیل ایمان مزاری نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس ترمیم سے جبری گمشدگیوں کو قانونی تحفظ مل سکتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

 

حکومت کا موقف

 

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ قانون صرف مخصوص حالات اور مدت کے لیے ہے اور گرفتار کیے گئے افراد کو 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس قانون سے ’مسنگ پرسنز‘ کے مسئلے کا حل ممکن ہوگا۔

 

تاریخی پس منظر اور تجزیہ

 

تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ دہشت گردی کے جرائم پر انسدادِ دہشت گردی قانون سنہ 1997 میں منظور ہوا تھا، اور اگر صحیح طریقے سے عمل درآمد ہو تو مزید ترامیم کی ضرورت نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ضرورت سے زیادہ قوانین بنانے سے بہتر ہے کہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔

 

سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے بعد ملک میں دہشت گردی کی صورتحال تشویشناک ہے، اور دہشت گردوں کی سہولت کاری بعض علاقوں میں رشتہ داری اور نسلی بنیادوں پر ہوتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C