پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر آگیا
👁️ 87 بار دیکھا گیا
پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر آگیا
سڈنی (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق پاکستان میں گزشتہ پانچ سالوں سے دہشت گردانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دہشت گردانہ حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے پچاس فیصد سے زائد کے لیے کالعدم عسکری تنظیم ٹی ٹی پی ذمہ دار ہے۔
پاکستان دنیا میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی سالانہ بنیادوں پر جاری کردہ فہرست میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ اس جنوب ایشائی ملک میں گزشتہ برس دہشت گردی کی وارداتوں میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار اکیاسی تک پہنچ گئی تھی، جو کہ اس سے گزشتہ برس یعن 20203ء کی نسبت پینتالیس فی صد زیادہ تعداد تھی۔
اس بات کا انکشاف انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس کی طرف سے رواں برس کے لیے جاری کیے جانے والے گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 میں کیا گیا ہے۔ سڈنی میں 2007 میں قائم کیے جانے والے دنیا کے اس ممتاز تھنک ٹینک کی تحقیق کو اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر کے عالمی تحقیقاتی اداروں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اپنے بارہویں سالانہ انڈیکس میں انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس نے دہشت گردانہ حملوں، ان میں ہونے والی ہلاکتوں، زخمیوں اور مغویوں کے اعداد و شمار کے حوالے سے دنیا کے ایک سو تریسٹھ ممالک کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا ہے۔
اس انڈیکس کے مطابق دہشت گردانہ کارروائیوں کی زد میں آنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر افریقی ملک برکینا فاسو، دوسرے پر پاکستان اور تیسرے نمبر پر شام ہے۔ جبکہ مالی چوتھے اور نائیجر پانچویں نمبر پر رہے۔
انڈیکس کے مطابق یہ مسلسل پانچواں سال ہے، جب پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، پاکستان میں 2023ء میں 517 حملے رپورٹ ہوئے تھے، جو سال دو ہزار چوبیس میں ایک ہزار نناوے تک پہنچ گئے۔ یہ پچھلے دس سالوں کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی سالانہ تعداد میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔
انڈیکس کے مطابق دنیا میں دہشت گردی کا سامنا کرنے والے ممالک کی تعداد اب اٹھاون سے بڑھ کر چھیاسٹھ تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ اپنے حمایتی گروپوں کے ساتھ مہلک ترین دہشت گرد تنظیم کو طور پر اب بھی موجود ہے اور اس کا نیٹ ورک بائیس ملکوں تک پھیل چکا ہے۔
انڈیکس کے مطابق دیگر نمایاں دہشت گرد تنظیموں میں جماعت نصرت الاسلام والمسلمین ، تحریک طالبان پاکستان اور الشباب وغیرہ شامل ہیں۔ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں افریقی خطہ ساحل بھی شامل ہے۔
گلوبل انڈیکس رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک میں سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے، جو 2024ء میں پاکستان میں 52 فیصد ہلاکتوں کی ذمے دار تھی۔گزشتہ سال ٹی ٹی پی نے 482 حملے کیے، جن میں 558 افراد جاں بحق ہوئے، جو 2023ء کی 293 ہلاکتوں کے مقابلے میں 91 فیصد زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں مل گئی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردانہ حملے تیزی سے بڑھے ہیں۔
بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 2024ء میں پاکستان کا سب سے مہلک حملہ کیا تھا، جس میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 2024 میں بلوچ عسکریت پسند گروہوں کے حملوں کی تعداد 116 سے بڑھ کر 504 ہو گئی جبکہ ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان اور خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبے رہے۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بتایا، ”پاکستان میں دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔‘‘ ان کے بقول کئی ملکوں کی ایجنسیاں بھی اپنے مذموم مقاصد کے تحت پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروپوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ڈاکٹر حسن عسکری سمجھتے ہیں کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ صرف طاقت سے ممکن نہیں ہے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک ایسا نظام لانا ہوگا، جس میں لوگ حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کریں اور ان کے مشورے اور حمایت ان پالیسیوں میں شامل ہو۔
پنجاب یونیورسٹی میں سماجی علوم کے شعبے کی سربراہ ڈاکٹر ارم خالد کا کہنا تھا،” دہشت گردی پاکستان کا مستقل مسئلہ ہے یہ کم اور زیادہ تو ہوتی رہتی ہے لیکن حالیہ سالوں میں کبھی ختم نہیں ہو سکی۔‘‘ ان کے مطابق دہشت گردی عوام کی حمایت سے عاری روایتی پالیسیوں سے ختم نہیں ہو سکتی ان کے بقول، ”پاکستان میں اصل مسئلہ انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں پر عمل درآمد کا بھی ہے۔ یہ بھی دیکھنا چاہئےیے کہ یہ پالیسیاں کون بنا رہا ہے اور ان پالیسیوں میں عوام کی کتنی مشاورت شامل ہے۔‘‘
دفاعی تجزیہ کار برگیڈئیر (ر) فاروق حمید خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا معاملہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ”اگر ملک میں انصاف نہ ملنے پر لوگ خود کشیاں کر رہے ہوں، نوجوان مایوس ہو کر ملک چھوڑ رہے ہوں اور عام آدمی مشکلات کا شکار ہو تو اس غیر یقینی صورتحال میں بھارت اور افغانستان سمیت پاکستان کے مخالف ملکوں کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقعہ مل جاتا ہے۔‘‘
ان کے خیال میں پاکستان کی ملٹری اور سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر عوامی تائید اور حمایت سے دہشت گردی کے خلاف کوئی موثر لائحہ عمل بنانا چاہییے۔ ان کے بقول اس ضمن میں سیاست دانوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ طاقت کے استعمال سے رد عمل بڑھتا ہے۔ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے سیاسی لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
سعودی عرب پر حملہ مراکش پر حملہ تصور ہوگا، شاہ محمد ششم
27/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں کرکٹ کھیل کر واپس آنے والے نوجوانوں پر فائرنگ، 3 ہلاک، 3 زخمی
27/September/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ بارودی مواد کا دھماکا، کمسن بچی زخمی
27/September/2026 👁️ 77 بار دیکھا گیا
ایران سے رواں ہفتے مزید مذاکرات کی توقع، ٹرمپ کا فوجی کارروائی کا عندیہ
27/September/2026 👁️ 58 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، مطلوب دہشتگرد کمانڈر ہلاک
27/September/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے دو واقعات، 27 افراد ہلاک اور 26 زخمی
27/September/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26338 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15583 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11870 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9199 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7473 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5293 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C