01/October/2026

پاکستان کا افغانستان میں 22 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ، افغان طالبان کا خواتین و بچوں سمیت 9 شہریوں کی ہلاکت کا الزام

👁️ 91 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کا افغانستان میں 22 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ، افغان طالبان کا خواتین و بچوں سمیت 9 شہریوں کی ہلاکت کا الزام

پاکستان کا افغانستان میں 22 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ، افغان طالبان کا خواتین و بچوں سمیت 9 شہریوں کی ہلاکت کا الزام

اسلام آباد/کابل(ڈیلی اردو) پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے دوران افغانستان کے دو صوبوں میں پاکستانی فضائی کارروائیوں سے متعلق دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے کارروائی میں 22 مبینہ دہشتگردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 9 شہری ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔

پاکستان کا شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور 22 ہلاکتوں کا دعویٰ

پاکستان کی وزارت اطلاعات کے مطابق ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دہشتگردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کو فضائی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

وزارت اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ دو مقامات پر موجود اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 22 مبینہ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔

پاکستانی بیان میں کارروائی کے درست مقامات کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم عالمی میڈیا کے مطابق یہ حملے افغان صوبوں کنڑ اور ہلمند میں ہونے کی اطلاعات کے بعد سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے ان کارروائیوں کو دہشتگرد گروہوں، ان کے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا حصہ قرار دیا ہے۔

افغان طالبان کا شہری آبادی پر حملوں اور 9 ہلاکتوں کا دعویٰ

دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے کنڑ کے علاقوں شلتن اور چوگام جبکہ ہلمند کے ضلع گرمسیر میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق فضائی حملوں میں 9 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں تین مکانات بھی تباہ ہوئے۔

افغان طالبان حکومت نے پاکستانی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ افغان حکام کی جانب سے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت یا دیگر تفصیلات فوری طور پر مکمل طور پر فراہم نہیں کی گئیں۔

عالمی میڈیا کے مطابق دونوں دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی

رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دونوں فریقوں کے جانی نقصان سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ افغان طالبان حکومت نے شہری ہلاکتوں کا دعویٰ کیا، جبکہ پاکستان نے کارروائی میں دہشتگردوں کو نشانہ بنانے کی بات کی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی، سرحدی حملوں اور مبینہ عسکریت پسندوں کی موجودگی کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہ پاکستان میں حملوں کے لیے وہاں کی سرزمین استعمال کرتے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C