18/August/2025

پاکستان کے قبائلی اضلاع مسلح گروہوں کے قبضے میں، مولانا فضل الرحمٰن

👁️ 381 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کے قبائلی اضلاع مسلح گروہوں کے قبضے میں، مولانا فضل الرحمٰن

پاکستان کے قبائلی اضلاع مسلح گروہوں کے قبضے میں، مولانا فضل الرحمٰن

اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے مسلح گروہوں کے قبضے میں ہیں اور عوام انہیں بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے قبائلی اضلاع میں حکومتی رٹ پر واضح سوالات موجود ہیں۔

 

یہ بات مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اے پی سی میں شریک سیاسی جماعتوں نے اپنے مطالبات پر مبنی مشترکہ اعلامیہ بھی پیش کیا۔

 

مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب میں مزید کہا کہ مسلح گروہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ فنڈز کا تقریباً 10 فیصد حصہ وصول کرتے ہیں اور سات سال بعد قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے باوجود جرگہ نظام بحال کرنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔

 

کانفرنس میں اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ محسن داوڑ، قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور بی این پی-ایم کے ثناء اللہ بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

 

اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان میں پائیدار امن و ترقی اُس وقت ممکن ہے جب جمہوریت، آئین کی بالادستی اور صوبوں کے جائز حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری تمام فوجی آپریشنز فوری طور پر ختم کیے جائیں اور جانی و مالی نقصانات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدلیہ کی نگرانی میں ’ٹروتھ کمیشن‘ قائم کیا جائے۔

 

اعلامیے میں نام نہاد ڈیتھ اسکواڈز اور غیر قانونی مسلح گروہوں کو فوری ختم کرنے، عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دینے، 18ویں ترمیم کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے اور ایف سی کو فیڈرل کانسٹیبلری میں تبدیل کرنے کی مذمت کی گئی۔ بلوچستان میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کی تجویز کی مخالفت بھی کی گئی۔

 

اعلامیے میں اے این پی کے شہید رہنماؤں کے قاتلوں کی گرفتاری میں ناکامی پر افسوس اور اے این پی رہنما مولانا خان زیب کے قتل کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

 

کانفرنس میں خیبر پختونخوا میں سیلابی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد امن مارچ کی 23 اگست کو طے شدہ تاریخ بھی ملتوی کر دی گئی۔ نئی تاریخ باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی۔

 

کانفرنس میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، جے یو آئی (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل سمیت دیگر جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C