پنجاب میں جانوروں کی قربانی پر احمدی کمیونٹی کو پولیس کارروائیوں کا سامنا
👁️ 138 بار دیکھا گیا
پنجاب میں جانوروں کی قربانی پر احمدی کمیونٹی کو پولیس کارروائیوں کا سامنا
گوجرانوالہ (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلمان پیر کو عید الاضحیٰ منا رہے ہیں اور جانوروں کی قربانی کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں احمدیہ کمیونٹی کو جانوروں کی قربانی کرنے کی وجہ سے اپنے خلاف کارروائیوں کا سامنا ہے۔
پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاؤ الدین، شیخورپورہ، فیصل آباد، وزیر آباد اور حافظ آباد سمیت دیگر اضلاع میں احمدیہ کمیونٹی کے افراد کو قربانی سے روکنے کے لیے تھانوں میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
احمدیہ کمیونٹی کے افراد کو جانوروں کی قربانی کرنے کی صورت میں مبینہ طور پرتوہینِ مذہب کے تحت مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں جب کہ بعض علاقوں میں احمدی افراد کے ساتھ ساتھ ان کے قربانی کے جانوروں (بکروں) کو بھی پولیس نے پکڑ لیا ہے۔
احمدیہ کمیونٹی کو قربانی سے روکنے کے لیے تھانوں میں دائر بیشتر درخواستیں مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مقامی رہنماؤں نے جمع کرائی ہیں۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان عامر محمود نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ مذہبی عناصر کے دباؤ پر پنجاب پولیس عیدِ قربان کے موقع پر احمدیوں کو مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور اور انہیں چار دیواری کے اندر قربانی کے فریضے سے روک رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں احمدیوں کو تھانوں میں بلا کر کہا جا رہا ہے کہ قربانی کی صورت میں انہیں نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، لہذا وہ اپنی سلامتی کی خاطر قربانی کا فرض ادا نہ کریں۔
عامر محمود نے بتایا کہ سیالکوٹ کے علاقے موترہ میں پانچ احمدیوں، لاہور، فیصل آباد، گوجرنوالہ اور تحصیل ڈسکہ میں ایک ایک احمدی کو ان کے بکروں سمیت پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
ترجمان احمدیہ کمینوٹی نے پولیس کی ان کارروائیوں کو غیرقانونی وغیر آئینی قرار دیا ہے۔
ترجمان جماعت احمدیہ کے مطابق عید الاضحیٰ کے موقع پر احمدیوں کو قربانی کرنے سے زبردستی روکنے جیسے اقدامات آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 20 اور سپریم کورٹ کے 12 جنوری 2022 کو دیے گئے فیصلے کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے [Cr1.P.916-L/2021] میں قرار دیا تھا کہ احمدی اپنی چار دیواری کے اندر اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی رکھتے ہیں۔
تاہم اس سال احمدیوں کو قربانی کرنے سے روکنے کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ شدت محسوس کی گئی ہے۔
امن و امان برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے، پولیس افسران
احمدی کمیونٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر جب وائس آف امریکہ نے پولیس کے افسران سے رابطہ کیا تو ان کا مؤقف تھا کہ پولیس کی اولین ترجیح امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنا ہے۔
معاملے کی حساسیت کے باعث پولیس افسران کے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے، جن کا کہنا تھا کہ احمدیوں کو قربانی سے نہیں روکا جا رہا اور مذہبی افراد کو بھی سختی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ازخود قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔
گوجرانوالہ پولیس کے افسران کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے اجلاس میں طے پایا تھا کہ عید کے ایام میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقین کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا تاکہ کوئی بھی فریق حالات کی خرابی کا باعث نہ بن سکے۔
عید الضحیٰ کے تین دنوں میں احمدی کمیونٹی کے افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی کے تحت مقدمات درج ہوتے رہے ہیں۔
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور 298بی کے تحت جماعت احمدیہ کے کسی رکن کو مسلمان ظاہر کرنے، عبادت گاہوں کے لیے اسلامی اصطلاح استعمال کرنے پر پابندی ہے اور ایسا کرنے پر تین سے دس برس تک قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جماعت احمدیہ کے اراکین اس قانون کو ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہیں جب کہ انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں۔
احمدی کمیونٹی کے افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2022 اور 2023 میں عید الضحیٰ کے موقع پر جو مقدمات درج ہوئے تھے ان میں سے کچھ مقدمات میں ملوث افراد بری ہو چکے ہیں۔
حال ہی میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس) نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے حملوں، بدسلوکی، عبادت گاہوں اور قبرستانوں کی بے حرمتی سمیت ریاستی سطح پر امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اس سے قبل پاکستان میں انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اپنی سالانہ رپورٹ برائے 24-2023 میں کہا تھا کہ پاکستان میں مذہبی عقائد کی بنا پر لوگوں کے انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ احمدیہ عقائد سے تعلق رکھنے والی 35 عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا جب کہ مذہبی عقائد کی بنا پر 21 احمدیوں کو حراست میں لیا گیا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
قلات میں کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک، گوادر میں آئی ای ڈی دھماکے سے میجر بھی ہلاک
19/October/2026 👁️ 24 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 106 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام
19/October/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
تل ابیب سے ویانا جانے والی پرواز کی صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ، بم کی دھمکی پر مسافروں سے پوچھ گچھ
19/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ، حوثی باغیوں کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26383 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15620 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11914 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9268 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7525 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5475 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C