14/July/2026

کراچی رینجرز کیمپ خودکش حملہ: ماسٹر مائنڈ سمیت سہولت کار نیٹ ورک گرفتار

👁️ 46 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی رینجرز کیمپ خودکش حملہ: ماسٹر مائنڈ سمیت سہولت کار نیٹ ورک گرفتار

کراچی رینجرز کیمپ خودکش حملہ: ماسٹر مائنڈ سمیت سہولت کار نیٹ ورک گرفتار

کراچی (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 27 جون کو سندھ رینجرز کیمپ پر ہونے والے خودکش حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر سمیت مکمل سہولت کار نیٹ ورک گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

 

سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ذوالفقار لاڑک اور ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رینجرز کی کراچی ٹرانسپورٹ کمپنی پر حملے میں ملوث تمام اہم کرداروں تک پہنچ گئے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ 27 جون کو چار مسلح افراد نے رینجرز کیمپ کو نشانہ بنایا تھا۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں میں سے تین کا تعلق افغانستان جبکہ ایک کا تعلق پاکستان کے ضلع باجوڑ سے تھا، جو مبینہ طور پر طویل عرصے تک افغانستان میں مقیم رہا۔

 

وزیر داخلہ سندھ کے مطابق حملہ آوروں کو افغانستان میں موجود ہینڈلرز کی جانب سے ہدایات دی جا رہی تھیں اور ان کا مقصد رینجرز اہلکاروں کو یرغمال بنانا اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔

 

حملے کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری

 

ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے بتایا کہ تحقیقات کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی چار مراحل میں کی گئی۔ پہلے مرحلے میں افغانستان میں منصوبہ بندی ہوئی، دوسرے مرحلے میں دہشت گردوں کو پاکستان منتقل کیا گیا، تیسرے مرحلے میں مقامی سہولت کار نیٹ ورک نے مدد فراہم کی، جبکہ آخری مرحلے میں اسلحہ اور خودکش جیکٹس فراہم کی گئیں۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قاری بشیر ہے، جسے افغانستان سے پاکستان بلا کر یہ ذمہ داری دی گئی تھی۔ حکام کے مطابق قاری بشیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور دوران تفتیش اس نے حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق اعتراف کیا ہے۔

سی ٹی ڈی حکام نے دعویٰ کیا کہ حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے بعض رہنماؤں سمیت نور ولی، شیر علی، سعید شاہ اور بصیر عرف احرار ملا کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

افغانستان میں تربیت کا دعویٰ

 

عرفان بہادر کے مطابق حملے کے لیے دہشت گردوں کا انتخاب افغانستان میں کیا گیا اور انہیں مختلف تربیتی مراکز میں تربیت فراہم کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار زخمی ملزم عثمان نے دوران تفتیش بتایا کہ اسے افغانستان کے مختلف کیمپوں میں تربیت دی گئی۔

 

انہوں نے کہا کہ ملزمان بلوچستان کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے کراچی پہنچے، جہاں سہولت کاروں نے انہیں رہائش، نقل و حرکت اور دیگر معاونت فراہم کی۔

 

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق مجموعی طور پر 13 افراد حملے کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری میں ملوث تھے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ قاری بشیر کے موبائل فون سے حملے کی تیاری، دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور روانگی سے متعلق ویڈیوز بھی برآمد کی گئی ہیں۔

 

اسلحہ کی فراہمی کا دعویٰ

 

حکام کے مطابق قاری بشیر نے دوران تفتیش بتایا کہ حملے کے لیے اسلحہ سعید شاہ کے ذریعے کراچی پہنچایا گیا، جبکہ مختلف افراد نے اسلحہ اور دیگر سامان فراہم کیا۔

 

سی ٹی ڈی کے مطابق حملے کے دوران ایک خودکش بمبار جانان نے خود کو دھماکے سے اڑایا، جس کے بعد دیگر حملہ آور رینجرز کی تنصیب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

افغانستان پر الزامات

 

سندھ پولیس حکام نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی جا رہی ہے اور دہشت گرد تنظیموں کو وہاں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔

افغان حکام ماضی میں پاکستان کی جانب سے ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

 

حکام کے مطابق کراچی رینجرز کیمپ حملے کی تحقیقات مزید جاری ہیں جبکہ گرفتار افراد سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C