29/August/2025

کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے حملے اور فورسز کی کارروائیاں، متعدد ہلاکتیں

👁️ 458 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے حملے اور فورسز کی کارروائیاں، متعدد ہلاکتیں

کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے حملے اور فورسز کی کارروائیاں، متعدد ہلاکتیں

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کرم اور شمالی وزیرستان میں جمعرات کو دہشت گردوں کے حملے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں متعدد اہلکار زخمی جبکہ کم از کم پانچ دہشت گرد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

 

ضلعی حکام کے مطابق کرم کے علاقے ڈوگر میں مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کی دو گاڑیوں پر گھات لگا کر فائرنگ کی۔ واقعے میں ایک گاڑی کو نقصان پہنچا اور کئی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

 

دوسری جانب شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔ حیدر خیل گاؤں میں کارروائی کے دوران ایک اہم دہشت گرد ضیاءالرحمن عرف مخلص ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور بارود برآمد کیا گیا۔ 

 

اسی تحصیل کے گاؤں باروخیل میں کارروائی کے دوران مزید تین دہشت گرد مارے گئے، جب کہ قریبی علاقے میں ایک اور کارروائی میں ایک سے دو دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یوں میر علی کے مختلف آپریشنز میں مجموعی طور پر چار سے پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

 

دریں اثنا، ضلعی انتظامیہ نے جنوبی وزیرستان کے اپر اور لوئر علاقوں میں جمعرات کو صبح 6 بجے سے شام 7 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اس دوران تمام بازار اور مارکیٹس بند رہیں گی اور ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔

 

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحصیل برمل اور شکئی میں داخلہ سختی سے ممنوع ہوگا۔ متاثرہ علاقوں میں وانا-تیارزہ گیٹ، کرب کوٹ، تنائی، عزیز آباد چوک تا درگئی پل، شکئی اور انزر چینہ تا وانا شامل ہیں۔ 

 

جنوبی وزیرستان اپر میں سپینکئی رغزئی تا نظر خیل، آسمان منزہ-کانیگرم، شیرونگی، سپین جماعت تا توروام، درگئی پل، مدی جان، شین ورسک، مولا خان سرائے تا چگملائی اور سرویکئ-مولا خان سرائے تا بروند پر بھی داخلہ بند رہے گا۔

 

اعلامیہ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں صرف سکیورٹی فورسز کی اجازت اور ضروری کاغذات کے ساتھ ہی سفر کی اجازت ہوگی۔ راستے میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی دیکھتے ہی عام شہریوں کو اپنی گاڑی کو 100 میٹر فاصلے پر سڑک سے نیچے اتارنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

 

ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک سے جنوبی وزیرستان اپر جانے والے مسافروں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ اس دوران سفر سے گریز کریں۔ 

 

حکام کے مطابق یہ اقدامات امن و امان کی بحالی اور سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C