17/November/2025

کرم: سیکورٹی فورسز پر حملہ ناکام، زینبیون بریگیڈ کا مطلوب دہشتگرد گرفتار

👁️ 351 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم: سیکورٹی فورسز پر حملہ ناکام، زینبیون بریگیڈ کا مطلوب دہشتگرد گرفتار

کرم: سیکورٹی فورسز پر حملہ ناکام، زینبیون بریگیڈ کا مطلوب دہشتگرد گرفتار

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے ‏قبائلی ضلع کرم کی تحصیل لوئر کرم کے علاقے شورکو میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ایرانی حمایت یافتہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم زینبیون بریگیڈ کے دہشتگردوں نے فائرنگ کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں حملہ پسپا کر دیا گیا۔

 

سیکورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران شدت پسند ستار حسین کو گرفتار کر لیا گیا، جو انتہائی مطلوب دہشتگرد تھا اور متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق علاقے میں مزید کارروائیوں کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

 

کرم کا پس منظر اور عوامل

 

 

ضلع کرم کے تنازع کو سمجھنے کے لیے اس خطے کی جغرافیائی، آبادیاتی اور تاریخی خصوصیات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

 

1۔ جغرافیائی اہمیت

 

کرم اپنی پوزیشن کے باعث انتہائی اسٹریٹجک ضلع شمار ہوتا ہے۔ امریکی فوج نے اسے ’’Parrot Beak‘‘ (طوطے کی چونچ) کا نام دیا تھا۔ اس کی سرحدیں افغانستان کے صوبہ خوست اور ننگرہار سے ملتی ہیں جبکہ یہ کابل کے نسبتاً قریب واقع ہے۔

 

اسی جغرافیائی حیثیت کے باعث 1980ء کی دہائی میں افغان مجاہدین نے کرم کو جنگی بیس کے طور پر استعمال کیا۔ کرم کے قریب جاجی اور تورا بورا وہ علاقے ہیں جو اسامہ بن لادن کے مراکز رہے، جہاں اُس نے مسعدہ (شیر کی غار) سمیت تربیتی کیمپ قائم کیے۔ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد اسامہ بن لادن اور صوفی محمد مبینہ طور پر پاراچنار کے راستے افغانستان فرار ہوئے تھے۔

 

2۔ شورکو کی اہمیت

 

تحصیل لوئر کرم کا علاقہ شورکو براہِ راست افغان صوبہ خوست سے جڑا ہے جہاں تحریک طالبان پاکستان (TTP) سرگرم ہے، جب کہ ضلع کرم کا ایک حصہ افغان صوبہ ننگرہار سے بھی ملتا ہے جو شدت پسند تنظیم داعش (ISKP) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اس سرحدی محلِ وقوع کے باعث یہاں سرحد پار سے دراندازی اور مسلح سرگرمیوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

 

3۔ منفرد آبادیاتی ساخت

 

کرم خیبر پختونخوا کا واحد ضلع ہے جہاں شیعہ آبادی اکثریت میں ہے، جو زیادہ تر اپر کرم اور اس کے ہیڈکوارٹر پاراچنار میں رہائش پذیر ہے۔ جبکہ لوئر کرم میں سنی آبادی اکثریت میں ہے۔ اپر کرم سے صوبے کے دیگر حصوں تک زمینی راستہ لوئر کرم سے گزرتا ہے، اور کشیدگی کی صورت میں یہ راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اس دوران لوگوں کو پشاور پہنچنے کے لیے متبادل افغان راستے گردیز یا ننگرہار استعمال کرنا پڑتے ہیں۔

 

4۔ علاقائی و عالمی اثرات

 

1979ء میں افغانستان پر سوویت حملے اور ایران میں اسلامی انقلاب کے نتیجے میں کرم کے فرقہ وارانہ منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ شام، عراق اور افغانستان میں بڑھتے ہوئے تشدد نے بھی اس خطے میں اثر ڈالا، اور بیرونی جنگجوؤں کی مہارت، جدید اسلحہ اور تنظیمی سوچ مقامی جھڑپوں میں شامل ہوتی رہی۔

 

5۔ متعدد کالعدم تنظیموں کی دلچسپی

 

فرقہ وارانہ کشیدگی کے دوران کرم کی صورتِ حال پر مختلف شدت پسند تنظیموں کے عناصر قریبی نظر رکھتے ہیں، جن میں شامل ہیں،  لشکر جھنگوی،  سپاہ صحابہ، سپاہ محمد پاکستان، اسلامک اسٹیٹ گروپ، غازی فورس، تحریک طالبان پاکستان اور زینبیون بریگیڈ وغیرہ۔

 

ان گروہوں کی مداخلت سے مقامی سطح پر لڑائی میں شدت اور اسلحے کی نوعیت میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

 

6۔ بیرونی اور اندرونی فنڈنگ

 

غیر ملکی ہمدرد عناصر اور مقامی حمایتیوں کی مالی معاونت فرقہ وارانہ فسادات کو مزید ہوا دیتی ہے۔ یہ فنڈنگ نہ صرف مسلح گروہوں کو مستحکم کرتی ہے بلکہ تنازع کو طویل اور پیچیدہ بھی بناتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C