08/October/2025

کرم میں فوجی قافلے پر پاکستانی طالبان کا حملہ: لیفٹیننٹ کرنل، میجر سمیت 17 اہلکار ہلاک، 3 زخمی

👁️ 467 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم میں فوجی قافلے پر پاکستانی طالبان کا حملہ: لیفٹیننٹ کرنل، میجر سمیت 17 اہلکار ہلاک، 3 زخمی

کرم میں فوجی قافلے پر پاکستانی طالبان کا حملہ: لیفٹیننٹ کرنل، میجر سمیت 17 اہلکار ہلاک، 3 زخمی

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم میں پاکستانی طالبان کے خلاف انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن کے دوران شدید دھماکوں اور فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف، میجر طیب راحت سمیت 17 فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

 

یہ واقعہ سینٹرل کرم کے علاقے ڈوگر میں علی شیر زئی کے مقام پر پیش آیا، جہاں شدت پسندوں نے افغان سرحد کے قریب ایک فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

 

ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پہلے سڑک کنارے نصب بموں سے دھماکے کیے، جس کے بعد قافلے پر جدید خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی گئی۔

 

عسکری ذرائع کے مطابق، یہ قافلہ جوگی قلعے میں تعینات دستے کی مدد کے لیے روانہ تھا جب یہ حملہ پیش آیا۔

 

ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف، میجر طیب راحت، نائیک صوبیدار اعظم گل، نائیک عادل حسین، نائیک گل عامر، لانس نائیک شیر خان، لانس نائیک تالش فراز، لانس نائیک ارشد حسین، سپاہی طفیل خان، سپاہی عاقب علی اور سپاہی محمد زاہد شامل ہیں۔

 

ابتدائی طور پر پانچ اہلکار لاپتہ تھے جن میں نائیک امبار، نائیک مستجب، نائیک اصف، سپاہی امیر زیب اور لانس نائیک قیصر شامل تھے، تاہم بعد میں ان کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔

 

زخمی اہلکاروں میں نائب صوبیدار رئیس، سپاہی وقار اور سپاہی سمیع اللہ شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

 

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں کمانڈر حبیب سمیت 13 شدت پسند مارے گئے۔

 

تین روز قبل بھی سینٹرل کرم کے علاقے ڈوگر میں مقامی افراد نے فورسز کے ایک آپریشن میں مداخلت کی تھی۔

 

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ایک فوجی افسر کو اردو اور پشتو میں مقامی افراد کو سمجھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

 

خیال رہے کہ جوگی قلعہ کرم اور اورکزئی کی سرحد پر واقع ہے۔

 

تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں واقعے کا مقام اورکزئی بتایا گیا ہے، جبکہ حملہ درحقیقت کرم میں پیش آیا۔

 

لہٰذا آئی ایس پی آر کو چاہیے کہ واقعے کے مقام کی درست تفصیل جاری کریں تاکہ اطلاعات میں ابہام پیدا نہ ہو۔

 

نوٹ: یہ رپورٹ ڈیلی اردو کے چیف ایڈیٹر شبیر حسین طوری کی ہے، جو اس علاقے کے رہائشی اور زمینی صورتحال و مقامی حالات سے بخوبی آگاہ ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C