31/October/2026

یمن میں فضائی حملوں اور جھڑپوں میں 70 سے زائد حوثی باغی ہلاک، درجنوں زخمی

👁️ 45 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں فضائی حملوں اور جھڑپوں میں 70 سے زائد حوثی باغی ہلاک، درجنوں زخمی

یمن میں فضائی حملوں اور جھڑپوں میں 70 سے زائد حوثی باغی ہلاک، درجنوں زخمی

صنعاء (ڈیلی اردو) یمن میں حکومتی فورسز اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔ تعز اور لحج کے مختلف محاذوں پر فضائی حملوں اور جھڑپوں کے دوران 70 سے زائد حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ کارروائیاں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران کی گئیں، جبکہ دونوں صوبوں میں فوجی کمک کی نقل و حرکت اور زمینی لڑائی بھی جاری ہے۔

یمنی ذرائع کے مطابق فضائی حملوں کا بنیادی ہدف صوبہ تعز کے علاقوں حَیفان اور وادی الضباب میں حوثی باغیوں کے اجتماعات اور فوجی گاڑیاں تھیں۔ اسی طرح صوبہ لحج کے اضلاع المقاطرہ اور المضاربہ میں بھی حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

میدانی ذرائع کا کہنا ہے کہ لحج کے ضلع المقاطرہ میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ فضائی حملوں میں جانی و مالی نقصان اٹھانے کے باوجود حوثی باغیوں کی جانب سے دونوں صوبوں کے محاذوں پر مزید جنگجو اور فوجی کمک بھیجی جا رہی ہے۔

تاہم 70 سے زائد ہلاکتوں کے دعوے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یمن میں جولائی 2026 سے حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی میں نمایاں شدت آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے 9 اکتوبر کو سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ ملک ایک بار پھر بڑے پیمانے کی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے اور مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں پھیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق تعز کے مغربی اور جنوبی پہاڑی علاقوں سمیت لحج میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق تعز شہر اور اس کے اطراف میں جاری لڑائی نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے حوالے سے عالمی میڈیا نے بتایا کہ اگست 2026 کے آغاز سے اب تک یمن میں لڑائی کے باعث 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تعز میں طبی مراکز کو ادویات، آکسیجن، ایندھن اور جراحی کے سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ عالمی ریڈ کراس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران جنگ میں زخمی ہونے والے تقریباً 700 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

یمن میں حالیہ لڑائی کا ایک اہم مرکز تعز بھی ہے، جہاں حکومتی فورسز حوثی باغیوں کی پیش قدمی روکنے اور شہر کے گرد محاصرے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب حوثی باغیوں کی جانب سے بھی مختلف محاذوں پر حملوں اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یمن میں جاری تنازع اب صرف مقامی محاذوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہم گزرگاہوں کے قریب فوجی کشیدگی نے علاقائی سلامتی اور عالمی تجارتی راستوں کے لیے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

یمن میں 2014 سے جاری خانہ جنگی کے دوران حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء سمیت متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد کئی محاذوں پر نسبتاً سکون رہا، تاہم 2026 میں دوبارہ شروع ہونے والی شدید لڑائی نے ملک کو ایک نئے فوجی اور انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C