08/December/2025

21 سال سے پختون خون دے رہے ہیں، ناکام پالیسیوں کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالی جائے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

👁️ 165 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
21 سال سے پختون خون دے رہے ہیں، ناکام پالیسیوں کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالی جائے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

21 سال سے پختون خون دے رہے ہیں، ناکام پالیسیوں کی ذمہ داری ہم پر نہ ڈالی جائے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

پشاور (نمائندہ ڈیلی اردو) اتوار کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جمعے کے روز ہونے والی پریس کانفرنس کے سخت جواب میں کہا ہے کہ ایک ادارے کا ڈی جی حکومتِ خیبر پختونخوا اور منتخب قیادت کے بارے میں "غلط الفاظ" استعمال کرتا ہے، مگر وہ اپنی تربیت اور قبائلی اقدار کے مطابق ایسی زبان کا جواب نہیں دیں گے۔

 

“میں غیور پختون قبائلی ہوں، گالیاں دینا میری تربیت میں شامل نہیں”

 

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا: “ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے۔ میں غیور پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں ہے کہ میں گالیاں دوں۔”

 

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ادارے کے ترجمان، ایک جعلی سینیٹر اور ایک پارٹی کے جعلی وزراء میں فرق ہونا چاہیے۔“نہ آپ ایک جعلی سینیٹر ہیں اور نہ آپ کسی پارٹی کے ترجمان ہیں۔”

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کی سخت پریس کانفرنس کا پس منظر

 

جمعے کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی ڈیڑھ گھنٹہ طویل پریس کانفرنس میں کئی سخت الفاظ سنائی دیے جن میں ’’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘‘، ’’ذہنی مریض‘‘، ’’خود پسند‘‘ اور ’’اپنی ذات کا قیدی‘‘ شامل تھے۔

 

اگرچہ فوج کے ترجمان نے کسی سیاسی شخصیت کا نام نہیں لیا، تاہم پاکستانی سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ان کا اشارہ اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب تھا، جو کئی سالوں سے فوج کے سربراہ (اور اب چیف آف ڈیفنس فورسز) فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف شدید تنقید کر رہے ہیں۔

 

“21 سال سے پختون خون دے رہے ہیں، لیکن پالیسی ناکام ہے”

 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں موجودہ سکیورٹی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ خیبر پختونخوا کو "لیبارٹری" کی طرح استعمال کیا گیا۔

 

انہوں نے کہا: “کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا سکیورٹی معاملات پر سنجیدہ نہیں ہے۔ سنجیدہ تو آپ نہیں ہیں۔ 21 برس سے آپریشن پر آپریشن، ڈرون پر ڈرون چل رہا ہے۔ 21 سال سے میرے پختون کا خون بہہ رہا ہے۔ میرے پختون نے پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔”

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر اتنے سال کی سکیورٹی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی تو اس کا قصور خیبر پختونخوا کا نہیں بلکہ ان پالیسیوں کا ہے:"اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی تو قصور آپ کا ہے، اپنی پالیسی تبدیل کریں۔"

 

“یہ صوبہ لیبارٹری نہیں، اب پالیسی عوام بنائیں گے”

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر آنے والا عہدے دار نئی پالیسی اور نیا تجربہ لاتا ہے، لیکن یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ “یہ غیور عوام کا صوبہ خیبر پختونخوا ہے، کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔ اب ایک پالیسی بنے گی، یہ عوام بنائیں گے اور وہی چلے گی۔”

انہوں نے کہا کہ اگر ان کی باتوں سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو “ہم تکلیف بھی پہنچائیں گے۔ جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا، ہم ڈکٹیٹ نہیں ہوں گے۔ فیصلہ عوام کریں گے۔”

 

“ہم نے 80 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دیا ہے”

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں:

“ہماری تربیت یہ ہے کہ ملک کی خاطر اگر جان و مال قربان کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرتے۔ اسی لیے ہم نے 80 ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔”

 

انہوں نے آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کو بھی دہرایا۔

 

جلسے میں قرارداد منظور

 

پاکستان تحریک انصاف کے پشاور کے جلسے میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں جمعے کے روز عسکری ترجمان کی پریس کانفرنس پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

 

قرارداد میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ ایک غیر منتخب عسکری ترجمان نے منتخب سیاسی قیادت کے لیے غیرمہذب زبان استعمال کی، جو سول بالادستی کے اصولوں کے منافی ہے۔ قرارداد میں اس مؤقف کو بھی مسترد کیا گیا کہ سیاسی اختلاف رکھنے والے افراد کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

قرارداد میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ’قومی ہیرو‘ اور ’پاکستان کے حقیقی منتخب وزیرِ اعظم‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عوام نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عمران خان کو ووٹ دیا تھا۔ اس لیے یہ تصور مکمل طور پر رد کیا جاتا ہے کہ وہ یا ان کے ساتھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

 

قرارداد میں سیاسی جدوجہد کے دوران ہلاک ہونے والے کارکنوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جان دینے والے فوجی اہلکاروں کو بھی سلام پیش کیا گیا۔

 

مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، تاہم آج تک انھیں ان کے آئینی حقوق فراہم نہیں کیے گئے۔ اس سلسلے میں نئے این ایف سی ایوارڈ میں ان کا جائز حصہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

 

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور تعلقات بحال کیے جائیں اور تمام تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C