12/October/2025

51 ہلاکتیں: خیبر پختونخوا میں حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کرلی

👁️ 297 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
51 ہلاکتیں: خیبر پختونخوا میں حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کرلی

51 ہلاکتیں: خیبر پختونخوا میں حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان نے قبول کرلی

پشاور (ڈیلی اردو رپورٹ) کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے ہفتے کے روز صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جن میں کم از کم 44 سکیورٹی اہلکار اور 7 شہری ہلاک ہوئے۔

 

یہ حملے گزشتہ تین دنوں کے دوران خیبر پختونخوا کے ان متعدد سرحدی اضلاع میں کیے گئے جن کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ ان میں ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس ٹریننگ اسکول پر خودکش کار بم حملہ بھی شامل تھا، جس کے بعد مسلح جھڑپ ہوئی اور 7 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔ 

 

ایک روز قبل اسی ضلع میں شدت پسندوں کے ایک علیحدہ حملے میں میجر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

 

ضلع خیبر میں نیم فوجی دستوں کے 11 اہلکار مارے گئے، جبکہ کرم میں دو افسران سمیت 17 فوجی ہلاک ہوئے۔ اسی دوران لکی مروت میں تین شہری اور ہنگو و باجوڑ میں دو اہلکار مارے گئے۔

 

سکیورٹی حکام کے مطابق باجوڑ میں ایک الگ جھڑپ میں تین شہریوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

 

تحریک طالبان پاکستان نے سوشل میڈیا پیغامات میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے افغان طالبان سے قریبی روابط ہیں۔

 

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان پر ’’کابل کی خودمختار سرزمین کی خلاف ورزی‘‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

 

اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے سرحد پار سے ہونے والی بڑھتی عسکریت پسندی کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے۔ پاکستان مسلسل الزام عائد کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستانی علاقوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

 

قابلِ ذکر ہے کہ 2021ء میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی واپسی کے بعد خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C