اسرائیلی فوج کا غزہ سے جزوی انخلا، جنگ بندی نافذ، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی
👁️ 336 بار دیکھا گیا
اسرائیلی فوج کا غزہ سے جزوی انخلا، جنگ بندی نافذ، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی
یروشلم (ڈیلی اردو/اے ایف پی/روئٹرز/ڈی پی اے) غزہ میں اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز بتدریج انخلا شروع کر دیا ہے، جب کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ نافذ ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے ساتھ انسانی امداد کی فراہمی کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
معاہدے کی منظوری اور جنگ بندی کا نفاذ
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ کابینہ نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے، جو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے گا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، جنگ بندی جمعے کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے نافذ ہوئی، جس کے بعد فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ فوجی دستے ان علاقوں میں واپس جا رہے ہیں جو امن منصوبے کے تحت طے کیے گئے ہیں، تاہم بعض مقامات پر نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے محدود موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔
نیتن یاہو کا سخت مؤقف
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے نشریاتی خطاب میں کہا کہ ’’اسرائیلی افواج غزہ میں اس وقت تک رہیں گی جب تک علاقے کو محفوظ نہیں بنا دیا جاتا اور حماس کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر یہ آسان طریقے سے ممکن ہوا تو اچھا ہے، اگر نہیں تو مشکل طریقے سے ممکن بنایا جائے گا۔‘‘
نیتن یاہو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے اور اسرائیلی فوج جزوی انخلا کر رہی ہے۔
فوج کی وارننگ: کچھ علاقے اب بھی خطرناک
اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ کے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں داخل نہ ہوں جو اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔
فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے کہا، ’’میں غزہ کے شہریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے زیرقبضہ علاقوں میں داخل نہ ہوں۔ معاہدے کی پاسداری کریں اور اپنی حفاظت یقینی بنائیں۔‘‘
فوج نے کہا کہ شہری الرشید (ساحلی) اور صلاح الدین راستوں کے ذریعے جنوب سے شمال کی طرف نقل مکانی کر سکتے ہیں، تاہم شمالی علاقوں جیسے بیت ہانون، بیت لاہیہ، شجاعیہ اور دیگر فوجی زونز میں داخل ہونے سے گریز کریں۔
انخلا کے شواہد اور زمینی صورتحال
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی اور خان یونس کے کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔
سینیئر اہلکار محمد المغیر نے بتایا کہ تل الہوا، الشاطی کیمپ اور خان یونس کے جنوبی حصے سے فوجی گاڑیاں واپس بلا لی گئی ہیں۔
مقامی شہریوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی رات اسرائیلی فوج نے بعض اڈے خالی کر دیے ہیں۔
تاہم سول ڈیفنس کے ترجمان محمود باسل کے مطابق، ’’لڑائی مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ شمالی غزہ میں فضائی حملے اور توپ خانے کی گولہ باری اب بھی جاری ہے۔‘‘
یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی
امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق، حماس 72 گھنٹوں کے اندر 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرے گی۔
جوابی طور پر اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں وہ بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے قید میں ہیں۔
اس کے علاوہ، اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے تقریباً 1,700 فلسطینیوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔
فوجی منصوبہ اور مستقبل کا مرحلہ
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ امن منصوبے کے تحت اسرائیلی افواج کو ’’ییلو لائن‘‘ تک تعینات کیا جا رہا ہے، جہاں سے وہ مرحلہ وار واپس جائیں گی۔
فوجی ترجمان کے مطابق، ’’پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج غزہ کے تقریباً 53 فیصد علاقے میں تعینات رہے گی تاکہ حفاظتی نگرانی برقرار رکھی جا سکے۔‘‘
غزہ کے شہریوں کی واپسی
جنگ بندی کے بعد جمعے ہی کے روز ہزاروں بے گھر فلسطینی غزہ سٹی اور وسطی غزہ پٹی کے علاقوں کی طرف واپس جانے لگے۔
یہ وہ علاقے ہیں جہاں گزشتہ ہفتوں میں شدید بمباری اور لڑائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
شہری اپنے گھروں کے ملبے میں باقی ماندہ سامان تلاش کر رہے ہیں اور خیموں میں پناہ گزین خاندان اپنے علاقوں کی بحالی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
امدادی سامان کی فراہمی
معاہدے کے تحت جنگ بندی کے بعد خوراک، پانی اور طبی امداد کے قافلے غزہ میں داخل ہونا شروع ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق، غزہ میں لاکھوں شہری اب بھی بے گھر ہیں اور انہیں فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
صورتحال کا جائزہ
جمعے کے روز غزہ کے کئی حصوں میں وقفے وقفے سے گولہ باری کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جب کہ شہریوں کی بڑی تعداد شمال کی طرف نقل مکانی کر رہی تھی۔
مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے، لیکن غزہ میں مکمل امن کی بحالی کا عمل طویل اور غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
تعز، الحدیدہ اور مأرب میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں، 150 شہری ہلاک، 200 سے زائد زخمی اور 85 ہزار بے گھر ہونے کا دعویٰ
14/September/2026 👁️ 25 بار دیکھا گیا
حوثی باغیوں کا مأرب میں بے گھر افراد کے اجتماع کے قریب بیلسٹک میزائل حملہ، جانی نقصان نہیں ہوا
14/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ اور لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی امور پر گفتگو
14/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
محمد بن سلمان کی امریکی سینٹکام کمانڈر سے ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
14/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
ایران: سراوان میں فورسز کی کاروائی ، بی ایل اے کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد اور 3 ایرانی اہلکار ہلاک
14/September/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
حوثی باغیوں کا سعودی عرب میں فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ
14/September/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26290 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15539 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11825 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9130 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7415 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5158 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C