17/November/2025

اسلام آباد کچہری حملہ: خودکش بمبار نے پہلے بھی حملہ کرنے کی کوشش کی تحقیقات میں انکشاف!

👁️ 225 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد کچہری حملہ: خودکش بمبار نے پہلے بھی حملہ کرنے کی کوشش کی تحقیقات میں انکشاف!

اسلام آباد کچہری حملہ: خودکش بمبار نے پہلے بھی حملہ کرنے کی کوشش کی تحقیقات میں انکشاف!

اسلام آباد (نمائندہ ڈیلی اردو) اسلام آباد کچہری میں 11 نومبر کو ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق حملہ آور نے کچہری دھماکے سے قبل بھی خود کو اڑانے کی کوشش کی تھی، تاہم پہلا حملہ ناکام ہونے کے باعث منصوبہ تبدیل کرنا پڑا۔

 

پولیس ذرائع نے بتایا کہ خودکش بمبار نے 26 نمبر چونگی پر اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن بروقت ردِعمل کے باعث وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ پہلے حملے کی ناکامی کے بعد دہشت گرد ڈھوک پراچہ میں کرائے کے گھر میں رپوش ہوگئے تھے، جبکہ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں نے کیمروں کی مدد سے ان کے خفیہ ٹھکانے تک رسائی حاصل کی۔

 

ذرائع کے مطابق پولیس اور حساس اداروں نے ڈھوک پراچہ میں مربوط سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کیا تھا جو مکمل کامیاب رہا۔ سی سی ٹی وی شواہد نے گولڑہ سے 26 نمبر چونگی تک دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

واضح رہے کہ 11 نومبر کو اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔

 

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا تھا کہ خودکش حملہ آور نے آن لائن موٹرسائیکل رائیڈنگ ایپ کے ذریعے صرف 200 روپے میں کچہری تک رائیڈ بک کروائی تھی، جبکہ اسے لانے والے رائیڈر کو بھی بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

 

دو روز قبل حساس ادارے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ کارروائی میں جوڈیشل کمپلیکس جی-11 اسلام آباد پر حملے میں ملوث ”فتنۃ الخوارج“ کے دہشت گرد سیل کے 4 ارکان کو گرفتار کیا تھا۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اسے ٹیلیگرام کے ذریعے "فتنۃ الخوارج" کے کمانڈر سعیدالرحمٰن عرف داد اللہ/داد اکبر سے ہدایات ملتی تھیں۔ ملزم کے مطابق داد اکبر کا تعلق باجوڑ کے علاقے چرمکنگ سے ہے اور وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے، جہاں وہ ٹی ٹی پی نواگئی باجوڑ کا انٹیلی جنس چیف ہے۔

 

ساجد اللہ نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کے لیے اسلام آباد میں خودکش حملہ کروایا گیا۔ داد اکبر نے خودکش بمبار عثمان عرف قاری کی تصاویر بھیج کر اسے پاکستان میں ریسیو کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔ 

 

عثمان عرف قاری کا تعلق شینواری قبیلے سے تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاقے اچین کا رہائشی تھا۔

تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے دیگر عناصر تک پہنچنے کے لیے چھاپے جاری ہیں، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

 

‏پاکستان، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کیلئے خوارج کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C