افغانستان میں رہ جانے والے امریکی ہتھیار باعث تشویش، پاکستان
👁️ 78 بار دیکھا گیا
افغانستان میں رہ جانے والے امریکی ہتھیار باعث تشویش، پاکستان
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) پاکستان نے2021 میں امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے جدید فوجی سازوسامان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروپ پاکستان کی سرزمین پر حملوں میں ان ہتھیاروں کا استعمال کررہے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے بدھ کو امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے جدید فوجی سازوسامان سے لاحق حفاظتی خطرات پر روشنی ڈالی، اور اس بات پر زور دیا کہ یہ پاکستان اور اس کے شہریوں دونوں کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان نے کابل میں حکام پر مسلسل زور دیا ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کو دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔
امریکی فوجی سازوسامان، جس میں ہوائی جہاز، زمین سے زمین پر گولہ باری کرنے والے ہتھیار، گاڑیاں اور مواصلاتی آلات شامل ہیں، امریکی قیادت والے اتحاد کے انخلاء کے بعد افغانستان میں رہ گئے۔
اگست 2021 میں امریکی فوجیوں کے افغانستان سے روانہ ہونے سے قبل امریکہ نے 70 سے زائد طیارے، درجنوں بکتر بند گاڑیاں اور فضائی دفاع کو ناکارہ بنا دیا تھا، تاہم اسلحے اور ساز وسامان کا ایک بڑا ذخیرہ اس کے باوجود وہاں رہ گیا، جسے افغان طالبان نے اپنے قبضے میں لے لیا۔
پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ اسلحے کالعدم عسکریت پسند تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) گروپ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے بھی ہاتھ لگ گئے، جیسا کہ پاکستان اور دیگر نے اشارہ کیا ہے۔ اسلام آباد نے سرحد پار دہشت گردی کے لیے عسکریت پسندوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال پر تشویش کا بار بار اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ سے ٹی ٹی پی جیسے دہشت گرد گروپوں سے تمام ہتھیاروں کی بازیابی کے لیے “مشترکہ مہم” کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرمپ، بائیڈن اور طالبان کا کیا کہنا ہے
طالبان نے فوری طور پر زیادہ تر ملٹری ہارڈ ویئر پر قبضہ کر لیا، جس سے پاکستان کے سکیورٹی چیلنجز میں مزید اضافہ ہو گیا۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے افغانستان سے انخلاء کے دوران کوئی ایسا سامان نہیں چھوڑا جسے دہشت گرد پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر سکیں۔
تاہم، 20 جنوری کو اپنے حلف برداری کے دن واشنگٹن میں ایک ریلی میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا “انہوں نے ہمارے فوجی سازوسامان، کا ایک بڑا حصہ، دشمن کو دیا۔”
ٹرمپ نے افغانستان کے لیے امداد کو فوجی سازوسامان کی واپسی سے مشروط کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس معاملے پر اپنی انتظامیہ کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا، “اگر ہم سالانہ اربوں ڈالر ادا کرنے جارہے ہیں تو، انہیں بتائیں کہ جب تک وہ ہمارا فوجی سازوسامان واپس نہیں کرتے ہم انہیں رقم نہیں دیں گے۔”
تاہم، طالبان نے مبینہ طور پر ہتھیاروں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے اور اس کے بجائے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ داعش سے لڑنے کے لیے انہیں مزید جدید ہتھیار فراہم کرے۔
پاکستان نے مزید کیا کہا؟
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا، “افغانستان میں امریکی جدید ہتھیاروں کی موجودگی، جو اگست 2021 میں اپنی فوجوں کے انخلاء کے بعد وہاں رہ گئی تھی، ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ یہ پاکستان اور اس کے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہتھیار ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد تنظیموں نے پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے استعمال کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہم کابل کے حکام سے بارہا مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ تمام ضروری اقدامات کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہ جائیں۔”
پاکستان اور بالخصوص صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 2024 میں اور مجموعی طور پر اگست 2021 کے بعد دہشت گردی سے متعلقہ واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے 2022 میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی کا ایک نازک معاہدہ توڑنے کے بعد سے دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
سات بلین ڈالر کا فوجی سازوسامان افغانستان میں رہ گیا
امریکی محکمہ دفاع نے 2022 میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ سات بلین ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں رہ گیا ہے، جس میں سے زیادہ تر کو طالبان جنگجوؤں نے تیزی سے اپنے قبضے میں لے لیا۔
گوکہ امریکی افواج نے انخلاء کے آخری ہفتوں میں اپنی کچھ مشینری کو ختم کرنے یا تباہ کرنے کی کوششیں کیں، لیکن فوجی ہارڈ ویئر کی ایک قابل ذکر مقدار اس کے باوجود طالبان کے ہاتھ میں آگئی۔
افراتفری میں امریکی انخلا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے دوران امریکہ نے طالبان کے ساتھ فوجیوں کے انخلاء کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن اس پر صدر جو بائیڈن کے دور میں عمل درآمد ہوا۔
حامد کرزئی حکومت کے اچانک خاتمے اور اگست 2021 میں طالبان کی جانب سے اقتدار پر تیزی سے دوبارہ قبضے نے افغانستان میں افراتفری کے حالات پیدا کردیے تھے، جس کا اختتام کابل کے ہوائی اڈے پر ایک مہلک خودکش بم دھماکے میں ہوا، جس میں تیرہ امریکی فوجی اور درجنوں افغان شہری ہلاک ہوئے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لکی مروت میں کرکٹ کھیل کر واپس آنے والے نوجوانوں پر فائرنگ، 3 ہلاک، 3 زخمی
27/September/2026 👁️ 49 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ بارودی مواد کا دھماکا، کمسن بچی زخمی
27/September/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
ایران سے رواں ہفتے مزید مذاکرات کی توقع، ٹرمپ کا فوجی کارروائی کا عندیہ
27/September/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن، مطلوب دہشتگرد کمانڈر ہلاک
27/September/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے دو واقعات، 27 افراد ہلاک اور 26 زخمی
27/September/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشتگرد ہلاک: آئی ایس پی آر
27/September/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26338 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15583 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11870 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9198 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7472 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5291 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C