28/May/2026

اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے، کشمیر اور سندھ طاس پر سخت الزامات کا تبادلہ

👁️ 272 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے، کشمیر اور سندھ طاس پر سخت الزامات کا تبادلہ

اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت آمنے سامنے، کشمیر اور سندھ طاس پر سخت الزامات کا تبادلہ

نیو یارک (ڈیلی اردو) اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے تنازع کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے ذکر کے بعد انڈیا کے مندوب نے پاکستان کو الزامات کا نشانہ بنایا اور پاکستان کی مندوب نے بھی جوابی الزامات عائد کیے۔

 

اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل تحت منعقد کردہ مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا موضوع تھا: ’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ: اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور اقوام متحدہ پر مبنی عالمی نظام کو مضبوط بنانا۔‘

 

امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والے اس مباحثے میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا: ’تقریباً آٹھ دہائیوں سے جموں و کشمیر کا تنازع حل طلب ہے، حالانکہ اس بارے میں سلامتی کونسل کی متعدد قرار دادیں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔‘

 

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن جبر پر قائم نہیں ہو سکتا اور ’نہ ہی یہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوششوں کے ساتھ برقرار رہ سکتا ہے۔‘

 

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ پانی کے حوالے سے تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے ایک اہم فریم ورک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

 

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘

 

ان کا کہنا تھا کہ جبر، بے دخلی اور بستیوں کے غیر قانونی پھیلاؤ کے ہوتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

 

جبکہ اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب ہریش پرواتھنینی نے الزام لگایا کہ پاکستان سرحد پار جارحیت کرتے ہوئے ان انڈین علاقوں پر نظر رکھتا ہے جو انڈیا کا حصہ بن چکے ہیں۔

 

انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ پاکستان ’ہزار زخموں کے ذریعے انڈیا کو لہولہان کرنے‘ کے نظریے پر عمل کرتا ہے۔

 

اس کا جواب اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفارت کار صائمہ سلیم نے دیا۔

 

انھوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور ’اس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار دادوں پر عمل در آمد سے انکار کر کے انڈیا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘

 

صائمہ سلیم نے بھی انڈیا پر پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا الزام لگایا اور پاکستان میں بلوچ لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کی کارروائیوں کا سہولت کار انڈیا کو قرار دیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C