24/May/2026

امریکہ-ایران کے درمیان معاہدے کی کوششیں تیز، ٹرمپ کا سخت انتباہ:”معاہدہ یا تباہ کن نتائج“

👁️ 363 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ-ایران کے درمیان معاہدے کی کوششیں تیز، ٹرمپ کا سخت انتباہ:”معاہدہ یا تباہ کن نتائج“

امریکہ-ایران کے درمیان معاہدے کی کوششیں تیز، ٹرمپ کا سخت انتباہ:”معاہدہ یا تباہ کن نتائج“

واشنگٹن (ڈیلی اردو/روئٹرز/نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو معاہدہ ہوگا، یا پھر ایسی صورتحال پیدا ہوگی جہاں کسی ملک کو اتنی سخت ضرب نہیں لگے گی جتنی ایران کو لگ سکتی ہے۔

 

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ صرف اسی معاہدے کو قبول کرے گا جس میں اس کے تمام مطالبات شامل ہوں، بصورت دیگر “سخت نتائج” سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو ایران کے ساتھ جاری کشیدہ مذاکرات کے تناظر میں ایک سخت انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

 

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے پیش رفت “کافی قریب” ہے، جبکہ تہران کی جانب سے بھی گزشتہ ہفتے کے دوران مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔

 

تاہم دونوں فریق محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ 

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا اہم مسئلہ ابتدائی تجاویز کا حصہ نہیں ہوگا۔

 

ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے کا مسودہ دیکھا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ کافی ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق وہ صرف اسی معاہدے پر دستخط کریں گے جس میں امریکہ کے تمام مطالبات شامل ہوں۔

 

ان کے بقول: “میں صرف اس معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ ملے جو ہم چاہتے ہیں۔ یا تو ہم معاہدہ کریں گے، یا پھر ایسی صورتحال ہوگی جہاں کسی ملک کو اتنی سخت ضرب نہیں لگے گی جتنی انھیں لگنے والی ہے۔”

 

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے مؤقف گذشتہ ہفتے کے دوران ایک حد تک قریب آئے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہم مسائل پر مکمل اتفاق ہو جائے گا۔ انہوں نے امریکی بیانات کو “متضاد” قرار دیا۔

 

ان کے مطابق ایران کا منصوبہ ایک مفاہمتی یادداشت یا ابتدائی معاہدے کا مسودہ تیار کرنا ہے، جو ایک فریم ورک کی شکل میں ہوگا اور اس میں 14 نکات شامل ہوں گے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ اس مسودے کو حتمی شکل دینے کے بعد 30 سے 60 دن کے اندر مزید مذاکرات ہوں گے تاکہ بالآخر ایک مکمل معاہدہ طے پا سکے۔

 

ادھر روئٹرز کے مطابق ایک عرب عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکی صدر اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی اور پاکستان کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر مشاورت کریں گے۔

 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انڈیا کے دورے کے دوران محتاط امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے کے آخر تک کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اپنا انتہائی افزودہ یورینیم بھی حوالے کرنا ہوگا، جبکہ آبنائے ہرمز کو کسی بھی “ٹول” کے بغیر دوبارہ کھولنا ضروری ہے۔

 

یہ نئی سفارتی سرگرمی اس وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں یہ رپورٹس بھی گردش کر رہی ہیں کہ انتظامیہ ممکنہ طور پر فوجی کارروائی کے ایک نئے دور کی تیاری کر رہی ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

 

گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر یہ بھی کہا کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت نہیں کریں گے تاکہ وہ “اہم صورتحال” کے دوران واشنگٹن میں موجود رہ سکیں۔

 

گذشتہ ہفتے انہوں نے تہران کے مطالبات کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ جنگ بندی انتہائی نازک مرحلے میں ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی اپریل کے اوائل سے نافذ ہے، تاہم خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔

 

امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر دباؤ بڑھایا ہوا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 100 جہازوں کا رخ موڑا گیا، 4 کو ناکارہ بنایا گیا، جبکہ 26 امدادی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔

 

سینٹکام کے مطابق اس دباؤ کا مقصد ایران پر معاشی اثر بڑھانا ہے۔

 

دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اردگرد کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب وہاں سے گزرنے والے ہر جہاز کو اجازت لینا ہوگی۔

 

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازران بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہی سفر کریں گے اور ایران کے قواعد پر عمل نہیں کریں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C