10/February/2026

امریکہ تمام پابندیاں ہٹیں، یورینیم کم افزودگی پر لائیں گے، ایران

👁️ 197 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ تمام پابندیاں ہٹیں، یورینیم کم افزودگی پر لائیں گے، ایران

امریکہ تمام پابندیاں ہٹیں، یورینیم کم افزودگی پر لائیں گے، ایران

مسقط (ڈیلی اردو) ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے پیر کے روز کہا کہ اگر تمام مالی پابندیاں ختم کر دی جائیں تو ایران اپنے انتہائی زیادہ افزودہ یورینیم کو کم افزودگی پر لانے پر رضامند ہو سکتا ہے۔ یہ واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایران کے مؤقف کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے۔

 

گزشتہ ہفتے مسقط میں امریکی اور ایرانی سفارتکاروں نے عمانی ثالثوں کے ذریعے بات چیت کی، جس کا مقصد سفارتکاری کو بحال کرنا تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں بحری بیڑا تعینات کر دیا جس سے نئی فوجی کارروائی کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔

 

یہ مذاکرات گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد ہوئے، جن میں ہزاروں افراد مارے گئے، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے بڑی اندرونی شورش تھی۔

 

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے پیر کے روز کہا،’’ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کم افزودگی پر لانے کے امکان کا … اس بات پر انحصار ہے کہ اس کے بدلے تمام پابندیاں اٹھائی جاتی ہیں یا نہیں۔‘‘

 

تاہم انہوں نے کہا کہ ایک اور تجویز، یعنی ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو کسی دوسرے ملک بھیجنا، امریکی حکام کے ساتھ بات چیت میں زیرِ بحث نہیں آئی۔

 

واشنگٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنے یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہو، جن کا اندازہ اقوامِ متحدہ کی جوہری ایجنسی نے گزشتہ سال 440 کلوگرام سے زائد لگایا تھا، جو 60 فیصد تک افزودہ ہیں۔ جو ہتھیاروں کے معیار کی 90 فیصد سطح سے کچھ ہی کم ہیں۔

 

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ مذاکرات کا نیا دور ’’اس معاملے کے منصفانہ اور متوازن حل کا ایک مناسب موقع‘‘ ہوگا اور مطلوبہ نتیجہ اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے اگر امریکہ سخت گیر مؤقف سے گریز کرے اور اپنے وعدوں کا احترام کرے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایران پابندیاں اٹھانے کے مطالبے پر قائم رہے گا اور افزودگی سمیت اپنے جوہری حقوق پر اصرار کرے گا۔

 

ایران اور امریکہ نے گزشتہ سال تہران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے پانچ دور کی بات چیت کی تھی، تاہم یہ عمل زیادہ تر ایران کے اندر یورینیم افزودگی پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

 

ٹرمپ کے ایرانی تنصیبات پر حملوں کے بعد تہران نے کہا ہے کہ اس نے افزودگی کی سرگرمیاں روک دی ہیں۔ ایران ہمیشہ کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

 

امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی مذاکرات میں شامل کیا جائے، مگر تہران نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

 

ٹرمپ نے گزشتہ ماہ احتجاج کے دوران فوجی مداخلت کی دھمکی بھی دی تھی مگر بالآخر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C