22/May/2026

امریکہ یورپ میں فوجی موجودگی کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے، مارکو روبیو

👁️ 325 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ یورپ میں فوجی موجودگی کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے، مارکو روبیو

امریکہ یورپ میں فوجی موجودگی کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے، مارکو روبیو

اسٹاک ہوم (ڈیلی اردو ) سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق امریکی فیصلوں پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیا ہے۔

 

خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ پولینڈ میں مزید پانچ ہزار فوجی تعینات کرے گا۔

 

یہ فیصلہ اُس کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا جب ملک میں چار ہزار فوجیوں کی مجوزہ تعیناتی منسوخ کر دی گئی تھی اور چند دن بعد یہ اعلان بھی ہوا تھا کہ امریکہ جرمنی سے اپنے فوجی واپس بلائے گا۔

یہ اعلانات نیٹو اتحادیوں کے لیے باعث تشویش تھے۔  تاہم جمعے کو نیٹو اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں روبیو نے کہا کہ ’امریکہ اپنی عالمی ذمہ داریوں کے پیش نظر مسلسل اپنے فوجی وجود کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔‘

 

امریکی فوجی اس وقت مشرق وسطیٰ میں بھی موجود ہیں جہاں امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع جاری ہے۔

 

ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے صدر کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا جن کی انھوں نے گذشتہ برس صدارتی انتخابات میں حمایت کی تھی اور جو طویل عرصے سے ان کے حامی رہے ہیں۔

 

امریکی صدر نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اضافی فوجی پہلے سے طے شدہ تعیناتی کا حصہ ہیں یا الگ اقدام۔

 

سویڈن کی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ واقعی الجھن پیدا کرنے والی صورت حال ہے اور اسے سمجھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

 

تاہم ان کے امریکی ہم منصب نے کہا کہ اتحاد کے اندر یہ بات اچھی طرح سمجھ لی گئی ہے کہ یورپ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی میں تبدیلی کی جائے گی۔

 

روبیو نے کہا کہ یہ عمل پہلے ہی جاری تھا اور اسے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں رہ کر انجام دیا گیا ہے۔ تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اس پر خوش ہوں گے لیکن وہ یقینی طور پر اس سے آگاہ ہیں۔‘

 

امریکہ نیٹو کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ صلاحیت رکھنے والا رکن ہے۔ اس نے سوویت دور سے کئی دہائیوں تک یورپی ممالک میں فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے۔

 

فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے دفاع کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھے۔

 

جرمنی میں 36 ہزار امریکی فوجی، اٹلی میں تقریباً 12 ہزار، برطانیہ میں 10 ہزار اور پولینڈ میں بھی اندازاً 10 ہزار فوجی موجود ہیں۔

 

ٹرمپ اکثر نیٹو پر تنقید کرتے رہے ہیں اور بعض اوقات یورپی اتحادیوں اور کینیڈا کی جانب سے امریکہ کے مقابلے میں کم مالی شراکت کے باعث امریکہ کو اتحاد سے نکالنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

 

اس کے نتیجے میں کئی ممالک نے اب اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

 

تاہم امریکی صدر نیٹو ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع میں امریکہ کی مدد نہ کرنے پر بھی ناراض رہے ہیں۔

 

وائٹ ہاؤس نے حالیہ ہفتوں میں اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے ’امریکہ فرسٹ‘ ایجنڈے کے تحت یورپ میں مجموعی فوجی تعداد کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے صحافیوں کو بتایا کہ یورپ کا امریکہ پر کم انحصار کرنے کی جانب رجحان جاری رہے گا۔

 

سویڈن میں امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ امریکی سیاست میں ہمیشہ نیٹو اتحاد میں امریکہ کے کردار پر بحث ہوتی رہی ہے۔

 

روبیو نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ نیٹو یورپ کے لیے اہم ہے اور ایسا ہونا چاہیے، لیکن اسے امریکہ کے لیے بھی اہم ہونا چاہیے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C