07/January/2026

امریکی فوج کا روسی پرچم بردار آئل ٹینکر پر قبضہ، روس۔امریکہ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

👁️ 183 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی فوج کا روسی پرچم بردار آئل ٹینکر پر قبضہ، روس۔امریکہ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

امریکی فوج کا روسی پرچم بردار آئل ٹینکر پر قبضہ، روس۔امریکہ کشیدگی میں اضافے کا خدشہ

واشنگٹن (ڈیلی اردو/روئٹرز) امریکی فوج اور کوسٹ گارڈ نے شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک آئل ٹینکر پر قبضہ کر لیا ہے، جو بظاہر وینزویلا سے منسلک تھا تاہم قبضے کے وقت اس پر روسی پرچم لہرا رہا تھا۔ اس اقدام سے روس اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

 

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والے وینزویلا کے تیل کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف عالمی سطح پر سمندری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے۔

 

بدھ کے روز دو نامعلوم امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ کارروائی امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ اس سے قبل روسی سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وینزویلا سے منسلک آئل ٹینکر مارینیرا پر چڑھائی کی، جبکہ ہیلی کاپٹروں کی جہاز کے گرد پرواز کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔

 

روئٹرز کے مطابق روس نے اس آئل ٹینکر کی مبینہ حفاظت کے لیے ایک آبدوز بھی روانہ کی تھی اور روسی حکام نے امریکہ سے اس پر قبضہ نہ کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم اس کے باوجود امریکی فورسز نے کارروائی جاری رکھی۔

 

یہ آئل ٹینکر پہلے بیلا۔ون کے نام سے جانا جاتا تھا، جس نے حال ہی میں نام تبدیل کر کے مارینیرا رکھ لیا اور اس پر روسی پرچم لہرا دیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز پابندیوں کے شکار ان ٹینکروں میں شامل ہے جو امریکی سمندری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ٹینکر ایک مبینہ ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے، جو وینزویلا، روس اور ایران جیسے ممالک کے لیے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیل کی سپلائی میں ملوث ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی فورسز گزشتہ ایک ماہ سے بحرِ اوقیانوس میں اس جہاز کا تعاقب کر رہی تھیں، جو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے قبل کی تیاریوں کا حصہ تھا۔

 

روسی وزارتِ خارجہ نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ روسی حکام نے امریکی کارروائی کو غیر متناسب قرار دیا ہے۔

 

امریکی حکام کے مطابق اس ٹینکر پر 2024 میں بھی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جب اس پر الزام لگایا گیا تھا کہ یہ لبنانی گروپ حزب اللہ سے منسلک ایک کمپنی کے لیے سامان کی اسمگلنگ میں ملوث تھا۔ دسمبر میں جب یہ جہاز وینزویلا کی جانب جا رہا تھا تو کیریبین میں امریکی کوسٹ گارڈ نے اس پر چڑھنے کی کوشش کی، تاہم عملے نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

 

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ وینزویلا میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تیل بردار بحری جہازوں پر پابندی اور سمندری ناکہ بندی کا حکم دیا تھا، جسے وینزویلا کی حکومت نے ’چوری‘ اور ناقابلِ قبول اقدام قرار دیا تھا۔

امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن کا مقصد اس جہاز کو نقصان پہنچانا یا ڈبونا نہیں بلکہ اسے قبضے میں لے کر قانونی کارروائی کرنا ہے۔

 

ادھر امریکی فوج کی سدرن کمانڈ نے منگل کے روز کہا کہ وہ پابندی شدہ بحری جہازوں اور عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C