انسداد دہشتگردی ترمیم بل ، سیکورٹی اداروں کو مشکوک شخص کو 6 ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار مل گیا
👁️ 271 بار دیکھا گیا
انسداد دہشتگردی ترمیم بل ، سیکورٹی اداروں کو مشکوک شخص کو 6 ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار مل گیا
اسلام آباد (ڈیلی اردو) قومی اسمبلی نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جس کے تحت مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو قومی سلامتی، دفاع، امن و امان، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث مشتبہ افراد کو پہلے تین ماہ تک اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی منظوری سے مزید تین ماہ حفاظتی حراست میں رکھنے کا اختیار دے دیا گیا۔ اس دوران تحقیقات جے آئی ٹی کرے گی جو ایس پی رینک کے پولیس افسر، خفیہ ایجنسیوں، مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل ہوگی۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں بل کی شق وار منظوری دی گئی، جس میں پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کی ترامیم بھی شامل کی گئیں۔ ان ترامیم کے تحت بل میں سے "معقول شکایت"، "معتبر اطلاع" اور "معقول شبہ" جیسے الفاظ حذف کر کے "ٹھوس شواہد" کی شرط شامل کی گئی، تاکہ کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر گرفتار نہ کیا جا سکے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ان ترامیم سے بل متوازن ہوگیا ہے اور اب گرفتاری صرف ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر ممکن ہوگی۔
بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس قانون کے تحت ہر شہری کو پیدائشی مجرم بنا دیا گیا ہے، کسی کو بھی گرفتار کر کے اس کی بے گناہی کا ثبوت خود اس سے مانگا جائے گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بل کو آئین کے آرٹیکل 10 اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قوانین آئین سے متصادم ہیں۔ جے یو آئی کی عالیہ کامران اور پی ٹی آئی کی عالیہ حمزہ نے بھی بل کی جلد بازی میں منظوری پر سوال اٹھائے اور گنتی چیلنج کی، تاہم ووٹنگ میں 125 ارکان نے بل کے حق میں اور 45 نے مخالفت میں ووٹ دیا، جب کہ جے یو آئی ف نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بل کی حمایت میں کہا کہ اس ترمیم کا مقصد دہشتگردی کی روک تھام اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاکہ خطرناک عناصر کو بروقت گرفتار کر کے دہشتگردی کے واقعات روکے جا سکیں۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ملک کو ایک بار پھر 2012 جیسے حالات کا سامنا ہے، فورسز کی مدد کے لیے یہ قانون ضروری ہے اور اس سے مسنگ پرسنز کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔
بل کی منظوری کے بعد سیکیورٹی اداروں کو قانونی طور پر یہ اختیار حاصل ہوگیا ہے کہ کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھا جا سکے، اور اگر جے آئی ٹی کے پاس مزید ٹھوس شواہد ہوں تو مدت میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جا سکے گی۔ اس سے پہلے تین ماہ سے زائد حراست کے لیے ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ریویو بورڈ کی منظوری ضروری تھی، جو اب جے آئی ٹی دے سکے گی۔ بل تین سال کے لیے نافذالعمل ہوگا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 96 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 114 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 179 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4534 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3259 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2441 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C