انڈونیشیا میں ملحدین اور لامذہب افراد کے خلاف کریک ڈاؤن
👁️ 140 بار دیکھا گیا
انڈونیشیا میں ملحدین اور لامذہب افراد کے خلاف کریک ڈاؤن
جکارتہ (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) انڈونیشیا میں سرکاری دستاویزات پر مذہب کی وضاحت قانونی طور پر ضروری ہے۔ مذہب میں یقین نہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ملحدین اور کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کے حقوق کے تحفظ کی ایک غیر معمولی قانونی کوشش کو گزشتہ ماہ انڈونیشیا کی آئینی عدالت نے ناکام بنا دیا تھا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ایک شہری، حتیٰ کہ اقلیتوں کو بھی، سرکاری دستاویزات پر اپنے عقیدے کی وضاحت کرنی چاہیے، اور یہ کہ شادی مذہب کے مطابق ہونی چاہیے۔
انڈونیشیا، دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے اور سرکاری طور پر چھ مذاہب کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ ہیں اسلام، پروٹسٹنٹ ازم، کیتھولک ازم، بدھ مت، ہندو مت، اور کنفیوشس ازم۔ اگرچہ اقلیتی عقائد کے ماننے والوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن قانون کے تحت ملحد اور کسی مذہب کو نہیں ماننے والوں کو تسلیم بھی نہیں کیا جاتا۔
سال دو ہزار بارہ میں، ایک سرکاری ملازم الیگزینڈر عان کو فیس بک پر ملحدانہ مواد شیئر کرنے پر توہین مذہب کے جرم میں 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
انڈونیشیا کا ضابطہ فوجداری توہین مذہب اور الحاد کے پھیلاؤ کو قابل سزا قرار دیتا ہے، حالانکہ تکنیکی طور پر، یہ خود مذہبی عقیدے کی عدم موجودگی کو جرم قرار نہیں دیتا۔
تاہم، کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کا استدلال ہے کہ موجودہ قوانین کو مرضی کے مطابق نافذ کیا جاتا ہے تاکہ انہیں قانون کے تحت مساوی تحفظ حاصل نہ ہو سکے۔
جنوری 2024 میں، آئینی عدالت نے ان اقلیتی مذہبی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو، جو سرکاری طور پر تسلیم شدہ چھ میں سے نہیں ہیں، کو اجازت دی کہ اپنے شناختی کارڈ پر “غیر متعین عقیدہ رکھنے والوں” کے طور پر اندراج کرائیں۔
سماجی کارکنوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس سے “کوئی مذہب نہیں” کے آپشن کو شامل کرنے کی راہ ہموار ہو گی۔
لیکن، یہ امید اس وقت ختم ہو گئی جب دو اگناسٹک (لاادری) کارکنوں، ریمنڈ کامل اور تیگوہ سوگیہارتو کی طرف سے دائر کردہ وہ درخواست اکتوبر میں آئینی عدالت میں مسترد ہو گئی جس میں انہوں نے اپیل کی تھی کہ کسی مذہب کو نہیں ماننے والوں کو سرکاری دستاویزات پر مذہب کو خالی چھوڑنے کا حق دیا جائے۔
عدالت نے لامذہب کی درخواست مستر کردی
آئینی عدالت کے جسٹس عارف ہدایت نے گزشتہ ماہ درخواست کے خلاف فیصلہ سنایا، جس میں کہا گیا کہ مذہبی عقیدہ “پینکاسیلا” کے تحت “ضرورت” ہے اور آئین کے ذریعہ لازمی ہے۔
پینکاسیلا انڈونیشیا کا بنیادی نظریہ ہے، جو ایک واحد، اعلیٰ ترین ذات میں یقین رکھتا ہے۔ جسٹس ہدایت، جو ایک سابق چیف جسٹس ہیں، نے دلیل دی کہ مذہبی اعتراف کی ضرورت ایک “متناسب پابندی” ہے اور یہ من مانی یا جابرانہ نہیں ہے۔
آئینی عدالت نے کامل اور سوگیہارتو کی طرف سے دائر کی گئی ایک اور درخواست کو بھی مسترد کر دیا جس میں دلیل دی گئی کہ شادی کے قانون کی ایک شق، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شادی صرف اسی صورت میں جائز ہے جب متعلقہ مذہب اور عقیدے کے قوانین کے مطابق کی جائے، تفریق پر مبنی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق جسٹس ہدایت نے اپنے فیصلے میں کہا، “انڈونیشیا کے شہریوں کے لیے کسی مذہب یا عقیدے پر عمل نہ کرنے کا انتخاب کرنے کے لیے دفعات کی عدم موجودگی، انفرادی مذہب یا عقیدے کے مطابق شادیوں کی توثیق کرنے کے حوالے سے “امتیازی سلوک نہیں کرتا”۔
بین الاقوامی آئینی معاملات کے بارے میں برلن میں واقع ہرٹی اسکول کے اسکالر ایگنیسیئس نگراہا نے لکھا، “عدالت نے بنیادی طور پر فیصلہ دیا ہے کہ غیر مذہبی ہونے کے لیے آزادی کی ‘کوئی گنجائش’ نہیں ہے۔”
لامذہب افراد کے حقوق بالعموم عدم توجہی کا شکار
کسی مذہب کو نہ ماننے والوں کے خلاف آئینی عدالت کے فیصلے پر بین الاقوامی توجہ بہت کم مبذول ہوئی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں اقلیتی عقائد کے حقوق حالیہ برسوں میں ایک گرما گرم تنازعہ بن گئے ہیں، خاص طور پر جب سے میانمار کی فوج نے 2016 میں مسلم اقلیتی روہنگیا آبادی کی نسل کشی کی کوشش شروع کی۔
امریکی حکومت اور جرمن پارلیمنٹ نے خاص طور پر کمیونسٹ ویتنام اور لاؤس کی حکومتوں کو مذہبی اقلیتوں پر جبر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
لیکن ایگناسٹکس اور ملحدین کا کہنا ہے کہ انہیں بہت کم بین الاقوامی ہمدردی ملتی ہے۔
پوپ فرانسس نے گزشتہ ستمبر میں انڈونیشیا کے اپنے دورے کے دوران لامذہب افراد کے لیے آواز نہیں اٹھائی تھی۔
ڈی ڈبلیو سے بات کرنے والے یورپی یونین (ای یو) کے ایک ترجمان نے عدالتی فیصلے پر کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا۔
دریں اثنا ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کے ایک محقق آندریاس ہارسونو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ آئینی عدالت کے فیصلے سے حیران نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا میں 1998 میں صدر سہارتو کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسلامی بنیاد پرستی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور “عدالت کے نو جج بھی اسلامی بنیاد پرستی سے محفوظ نہیں ہیں۔”
آندریاس ہارسونو کا تاہم خیال ہے کہ مقصد اب بھی قابل حصول ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 249 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 298 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 615 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 534 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 218 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 325 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8963 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3476 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2567 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C