ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا بیٹا لندن میں 100 ملین پاؤنڈ کے لگژری مکانات کا مالک!
👁️ 362 بار دیکھا گیا
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کا بیٹا لندن میں 100 ملین پاؤنڈ کے لگژری مکانات کا مالک!
واشنگٹن (ش ح ط) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہای کے برطانیہ میں 100 ملین پاؤنڈ سے زائد مالیت کی پرتعیش جائیدادوں کے مالک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہای، جنہیں آیت اللہ خامنہای کا ممکنہ جانشین قرار دیا جاتا ہے، شمالی لندن کے علاقے ہیمپسٹیڈ میں واقع مشہور شاہراہ دی بشپس ایونیو پر کم از کم 11 لگژری جائیدادوں سے منسلک ہیں۔ یہ سڑک دنیا بھر میں ’’بلینیئرز رو‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ جائیدادیں مختلف شیل کمپنیوں کے ذریعے رکھی گئی ہیں، جن میں سے ایک کمپنی آئل آف مین میں رجسٹرڈ ہے، جو ایک معروف ٹیکس ہیون سمجھا جاتا ہے۔ ان کمپنیوں میں برچ وینچرز لمیٹڈ بھی شامل ہے، جس میں اگرچہ مجتبیٰ خامنہای کو باضابطہ طور پر ڈائریکٹر یا مالک ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم اس کے بینیفیشل اونر کے طور پر بینکار علی انصاری کا نام درج ہے۔
علی انصاری کو ایرانی اولیگارچ قرار دیا جاتا ہے اور ان کے خامنہای خاندان سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔
برطانوی خزانے نے اکتوبر میں علی انصاری پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں، جس پر حالیہ ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
علی انصاری ماضی میں ایران کے آیندہ بینک کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، جو گزشتہ برس دیوالیہ ہو گیا تھا، جس سے ایران کے معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوا۔ تاہم برطانوی خزانے کی پابندیوں کے اعلامیے میں مجتبیٰ خامنہای کا نام براہِ راست شامل نہیں کیا گیا۔
بلومبرگ کا کہنا ہے کہ اس نے ذرائع سے بات کی ہے اور ایسے دستاویزات دیکھی ہیں جن سے لندن کی ان جائیدادوں کو مجتبیٰ خامنہای سے جوڑا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہای نے علی انصاری کے ذریعے ایک عالمی سطح کی پراپرٹی سلطنت قائم کی۔
برطانوی لینڈ رجسٹری کے ریکارڈ کے مطابق دی بشپس ایونیو پر موجود یہ تمام جائیدادیں 2013 میں ایک ساتھ 73 ملین پاؤنڈ میں خریدی گئی تھیں، جن کی موجودہ مالیت 100 ملین پاؤنڈ سے تجاوز کر چکی ہے۔
خامنہ ای ایران کے ’سب کے طاقتور شخص‘
آیت اللہ علی خامنہ ای 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کے رہبرِ اعلیٰ بننے والے دوسرے شخص ہیں۔ وہ 1989 سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ بہت سے نوجوان ایرانیوں نے ہمیشہ سے انھیں ہی اس کردار میں دیکھا ہے۔
وہ ایرانی ریاست کے طاقت کے مراکز میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ بطور رہبرِ اعلیٰ، خامنہ ای کو کسی بھی حکومتی معاملے میں ویٹو کی طاقت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ جس کو چاہیں، کسی بھی عوامی دفتر کے امیدوار کے طور پر چن سکتے ہیں۔
ریاست کے سربراہ اور فوج کے کمانڈر ان چیف ہونے کے ناطے، وہ ایران کے سب کے طاقتور شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای 1939 میں ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر مشہد کے ایک مذہبی خاندان میں ہیدا ہوئے۔ وہ اپنے بھائی بہنوں میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کے والد ایک درمیانے درجے کے شیعہ عالم تھے۔
انھوں نے بچپن میں مذہبی تعلیم حاصل کی اور 11 برس کی عمر میں وہ ایک عالم کے طور پر اہل ہو گئے تھے۔
اپنے دور کے دیگر عالموں کی طرح، ان کے کام کی نوعیت مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی بھی تھی۔
بطور ایک بااثر خطیب، وہ شاہِ ایران کے نقادوں میں شامل ہو گئے۔ بالآخر 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایران کے شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا۔
خامنہ ای کئی برسوں تک روپوش رہے اور انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انھیں چھ مرتبہ گرفتار کیا اور انھیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
1979 کے انقلاب کے ایک سال بعد، آیت اللہ روح اللہ خمینی نے انھیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کر دیا۔
1981 میں خامنہ ای صدر منتخب ہوئے جبکہ 1989 روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مذہبی رہنماؤں نے انھیں آیت اللہ خمینی کا جانشین مقرر کر دیا۔
خامنہ ای بہت کم ایران سے باہر جاتے ہیں۔ وہ مرکزی تہران میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک سادہ زندگی گزارتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ وہ باغبانی اور شاعری کے شوقین ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ جوانی میں سگریٹ نوشی کرتے تھے جو کہ ایران کے مذہبی رہنما کے لیے ایک غیر معمولی بات ہے۔ 1980 کی دہائی میں ان پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے کے بعد سے خامنہ ای اپنا دایاں بازو استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔
خامنہ ای کی اپنی اہلیہ منصوره خجستہ باقرزاده سے چھ بچے ہیں جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
خامنہ ای خاندان شاذ و نادر ہی عوام یا میڈیا کے سامنے آتا ہے۔ خامنہ ای کے بچوں کی نجی زندگی کے بارے میں سرکاری اور مصدقہ اطلاعات بہت محدود ہیں۔
ان کے بچوں میں ان کے دوسرے بیٹے مجتبیٰ اپنے اثر و رسوخ اور خامنہ ای کے قریبی حلقوں میں اپنے کردار کی وجہ سے سب سے زیادہ جانے جاتے ہیں۔
خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کتنے طاقتور ہیں؟
مجتبیٰ نے تہران کے علاوی ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی۔ یہ وہی سکول ہے جہاں روایتی طور پر ایران کے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے بچے پڑھتے ہیں۔
ان کی شادی قدامت پسند شخصیت غلام علی حداد عادل کی بیٹی سے اس وقت ہوئی جب وہ عالم نہیں بنے تھے اور قم میں مذہبی تعلیم شروع کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ مجتبیٰ نے 30 برس کی عمر میں قم کے مدرسے سے باقاعدہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا۔
2000 کی دہائی کے وسط تک ایران کے سیاسی حلقوں میں مجتبیٰ کا اثر و رسوخ کافی بڑھ گیا لیکن اس بارے میں میڈیا میں بہت کم بات کی جاتی ہے۔
سنہ 2004 میں مجتبیٰ پہلی مرتبہ اس وقت خبروں کی زینت بنے جب مہدی کروبی نامی صدارتی امیدوار نے آیت اللہ خامنہ ای کے نام کھلے خط میں ان پر پس پردہ احمدی نژاد کی حمایت کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا۔
2010 کی دہائی سے انھیں ایران کے بااثر ترین شخصیات میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ خامنہ ای انھیں اپنے جانشینی کے لیے موزوں ترین امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، کچھ سرکاری ذرائع اس بات کی تردید کرتے ہیں۔
آیت اللہ کوئی بادشاہ نہیں جو اپنا تخت اپنے بیٹے کو سونپ سکیں۔ تاہم، مجتبیٰ آیت اللہ خانہ ای کے قریبی حلقوں بشمول رہبرِ اعلیٰ کے دفتر میں کافی اثرورسوخ رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ رہبر اعلیٰ کا دفتر کئی معاملات میں آئینی اداروں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔
خامنہ ای کے سب سے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای ہیں۔ ان کی اہلیہ قدامت پسند مذہبی رہنما عزیزالله خوشوقت کی بیٹی ہیں۔
مصطفیٰ اور مجتبیٰ نے 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران اگلے محاذوں پر خدمات سر انجام دی ہیں
علی خامنہ ای کے تیسرے بیٹے مسعود 1972 میں پیدا ہوئے۔ ان کی شادی قم کے مدرسے کے معلموں کی ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے عالم سید محسن خرازی کی بیٹی سے ہوئی۔
مسعود خامنہ ای سیاسی حلقوں سے دور رہتے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات بہت محدود ہیں۔
وہ پہلے اس دفتر کے سربراہ تھے جو آیت اللہ خامنہ ای کے لیے ایک اہم پروپیگنڈہ مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دفتر ان کے والد کے کاموں کو محفوظ کرنے کا کام بھی کرتا ہے۔ خامنہ ای کی سوانح حیات اور یادداشتیں مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی مسعود پر ہے۔
خامنہ ای کے سب سے چھوٹے بیٹے میثم 1977 میں پیدا ہوئے اور اپنے باقی تینوں بھائیوں کی طرح وہ بھی عالم ہیں۔
ان کی اہلیہ ایک بااثر تاجر محمود لولاچیان کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 1979 کے انقلاب سے قبل انقلابی مذہبی رہنماؤں کی مالی اعانت کیا کرتے تھے۔
میثم نے اپنے بڑے بھائی مسعود کے ساتھ اپنے والد کے کاموں کو محفوظ رکھنے کے ذمہ دار دفتر میں کام کیا ہے۔
خامنہ ای کی بیٹیاں کون ہیں؟
خامنہ ای کی بیٹیوں بشریٰ اور ہدیٰ کے بارے میں بہت محدود معلومات دستیاب ہیں۔ یہ دونوں اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد پیدا ہوئی ہیں۔
1980 میں پیدا ہونے والی بشریٰ کی شادی غلام حسین محمد محمدی گلپایگانی کے بیٹے محمد جاوید گلپایگانی سے ہوئی ہے۔ غلام حسین محمد محمدی خامنہ ای کے دفتر میں چیف آف سٹاف ہیں۔
خامنہ ای کی سب سے چھوٹی اولاد ہدیٰ 1981 میں پیدا ہوئیں۔ ان کی شادی مصباح الهدىٰ باقری کنی سے ہوئی ہے جو امام صادق یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔
نوٹ: یہ رپورٹ برطانوی اخبار ڈیلی میل، بلومبرگ، بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 281 بار دیکھا گیا
ایران نواز گروہوں سے عالمی خطرہ، امریکہ نے شہریوں کیلئے سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا
20/July/2026 👁️ 145 بار دیکھا گیا
بنوں میں سیکورٹی کا آپریشن، ایک دہشت گرد ہلاک، 8 مشتبہ افراد گرفتار
20/July/2026 👁️ 187 بار دیکھا گیا
پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ، کرم سیکٹر میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال
20/July/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
اردن میں ایرانی حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی، ایک لاپتہ
19/July/2026 👁️ 266 بار دیکھا گیا
غزہ میں اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 9 فلسطینی ہلاک
19/July/2026 👁️ 202 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8961 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4810 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3571 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3395 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2565 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2318 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C